Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
335 - 649
تک نماز ادا کرتے رہے پھر گھر تشریف لائے ۔کپڑے پہن کر مسجد کی طرف چل دیئے۔ دوسرے دن اور رات بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہی معمول رہا۔ میں نے تہیَّہ کر لیا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت میں ہی رہوں گا یہاں تک کہ میں مر جاؤں یاآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہو جائے۔'' حضرت سیِّدُنا ابن ابی معاذ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت سیِّدُنامسعر رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مسجد میں حالتِ سجدہ میں ہوا۔
     (المرجع السابق،ج۱۳، ص۳۵۴)
    حضرت سیِّدُناقاسم بن معن رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک بار امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس آیتِ مبارکہ کی تلاوت فرمائی:''
بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ وَ السَّاعَۃُ اَدْہٰی وَ اَمَرُّ ﴿۴۶﴾
ترجمۂ کنز الایمان:بلکہ ان کا وعدہ قیامت پر ہے اور قیامت نہایت کڑی اور سخت کڑوی ۔''(پ۲۷،القمر:۴۶)                                                                                        اور طلوعِ فجر تک یہی آیتِ طیبہ دُہراتے رہے اورگریہ وزاری کرتے رہے ۔
 (سیر اعلام النبلاء، الرقم۹۹۴، ابوحنیفۃ النعمان بن ثابت، ج۶، ص۵۳۵۔ تاریخ بغداد، الرقم۷۲۹۷، ما ذکر من عبادۃ ابی حنیفۃ۔۔۔۔۔۔الخ، ج۱۳، ص۳۵۲۔ ۳۵۶)
    حضرت سیِّدُناحفص بن عبدالرحمن رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیس سال تک ساری رات ایک رکعت میں قرآنِ کریم کی تلاوت فرماتے رہے۔ حضرت سیِّدُنا اسد بن عمرو رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چالیس سال تک عشاء کے وضو سے نمازِفجرپڑھی۔ رات کے وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آہ وبُکا کی اتنی شدیدآواز سنائی دیتی کہ پڑوسیوں کو آپ پر ترس آ جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ جس جگہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوئی اس مقام پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چھ ہزار مرتبہ قرآنِ کریم ختم کیا۔ حضرت سیِّدُناابن ابی زائد علیہ رحمۃاللہ الواحد فرماتے ہیں کہ میں نے امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ نمازِ عشاء ادا کی۔ نماز کے بعد لوگ چلے گئے اور میں مسجد میں ہی ٹھہر گیا۔ میرا ارادہ تھاکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک مسئلہ دریافت کروں گالیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مسجد میں میری موجودگی کا علم نہ ہوا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآنِ کریم کی تلاوت شروع کر دی او ر اس آیتِ کریمہ پر پہنچے
فَمَنَّ اللہُ عَلَیۡنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ﴿۲۷﴾
ترجمۂ کنز الایمان :تواللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں لُو کے عذاب سے بچا لیا۔'' (پ۲۷، الطور: ۲۷)تو طلوعِ فجر تک اِسے دُہراتے رہے۔ منقول ہے کہ ایک رات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد میں کسی قاریئ قرآن کویہ آیتِ مبارکہ تلاوت کرتے ہوئے سنا،
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَہَا ۙ﴿۱﴾
ترجمۂ کنز الایمان :جب زمین تھر تھرا دی جائے جیسااس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔''(پ۳0،الزلزال:۱) تو شدَّتِ خوف سے فجر تک اپنی داڑھی مبارک ہاتھ میں پکڑے یہی کہتے رہے: '' ہمیں ذرہ بھر گناہ کی بھی سزا دی جائے گی ۔''
 (تاریخ بغداد، ص۳۵۲تا۳۵۵، بتغیرٍقلیلٍ)
وصالِ امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ:
     احمد بن کامل اور عبد الباقی بن قانع رحمۃاللہ تعالیٰ علیہما کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ
Flag Counter