| حکایتیں اور نصیحتیں |
کریں گے۔ لہٰذا میں نے کہہ دیاکہ آپ کے لئے صرف ایک حلال ہے۔''جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے رخصت ہوئے تو خلیفہ کی زوجہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ہزار درہم بھجوائے اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاشکریہ ادا کیا اور تعریف بھی کی لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے درہم قبول نہ کئے اور واپس بھیج دیئے اور ساتھ ہی کہلا بھیجاکہ میں نے یہ بات تجھے خوش کرنے کے لئے نہیں کی تھی بلکہ رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے کی تھی پس اس کاثواب بھی اللہ تعالیٰ ہی دے گا۔
حضرت سیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خشیَّتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے پیکر اور کثرت سے صدقہ کرنے والے تھے۔
حضرت سیِّدُناخطیب بغدادی علیہ رحمۃاللہ الہادی نقل فرماتے ہیں کہ ''اگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اہل و عیال پر کچھ خرچ کرتے تو اسی قدر صدقہ بھی کر دیتے۔ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوئی نیا کپڑا پہنتے تو اسی قیمت کا کپڑا علماء کو بھی خرید کر دیتے اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے جب کھانا لگایا جاتا تو جتنا خود کھاتے اتنا ہی چھوڑ دیتے پھر وہ کھانا کسی فقیرکو کھلا دیتے یا گھر میں کسی کو ضرورت ہوتی تو اسے کھلا دیتے۔ رضائے ربُّ الانام عَزَّوَجَلَّ کو ہر چیز پر ترجیح دیتے اور حکمِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے معاملے میں اگرتلوار کا وار بھی کیا جاتا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ برداشت کر لیتے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیشہ یہ دو اشعار پڑھا کرتے تھے:عَطَاءُ ذِی الْعَرْشِ خَیْرٌ مِنْ عَطَائِکُمُوْ وَفَضْلُہٗ وَاسِعٌ یُرْجیٰ وَیُنْتَظَر تَکْدُرُوْنَ الْعَطَا مِنْکُمْ بِمِنَّتِکُمْوْ وَاللہُ یُعْطِیْ فَلاَ مَنَّ وَلَا کَدَر
ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔عرش کے مالک کی عطا تمہاری عطا سے بہتر ہے۔ اور اس کا فضل وکرم وسیع ہے جس کی اُمید اور انتظار کیا جاتا ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔تم اپنی عطا کو احسان جتلانے سے ملا دیتے ہو جبکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ احسان جتلائے اور گدلا کئے بغیر عطا فرماتا ہے۔
حضرت سیِّدُنامحمد بن حسین لیثی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں کوفہ آیا اور اہلِ کوفہ سے وہاں کے سب سے بڑے عابد کے متعلق دریافت کیاتو مجھے امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بتایا گیا۔پھر میں دوبارہ بڑھاپے میں یہاں آیا اور سب سے بڑے فقیہہ کے بارے میں پوچھا تو مجھے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہی نام بتایا گیا۔''(تاریخ بغداد، الرقم۷۲۹۷، النعمان بن ثابت ابوحنیفۃ التیمی،ما ذکر من عبادۃ ابی حنیفۃ وورعہ، ج۱۳، ص۳۵۱۔ ۳۵۶۔ ۳۵۷، بتغیرٍ)
مشہور زاہد ومُتَّقی حضرت سیِّدُنامسعربن کدام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اجتماعِ پاک میں حاضر ہواتو میں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نمازِ فجر میں پایا پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نمازِ ظہر تک محفلِ علم میں تشریف فرما رہے، نمازِ ظہر پڑھ کر عصر تک محفل جاری رہی، نمازِ عصر پڑھ لی تو مغرب تک بیٹھے رہے، نمازِ مغرب کے بعد عشاء تک پھر بیٹھ گئے۔ میں نے دل میں کہا کہ اس شخص کی مصروفیت یہ ہے تو عبادت کے لئے کب فارغ ہوتاہوگا، آج رات میں ضرور دیکھ بھال کروں گا۔ چنانچہ، میں نے نگرانی شروع کر دی۔ جب سب لوگ رُخصت ہوگئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں تشریف لے گئے اور طلوعِ فجر