Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
324 - 649
بیان 32:      تذکرۂ امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ
سِرَاجُ الأُمَّہ، اِمَامُ الأَئِمَّہ،کَاشِفُ الغُمَّہ، فقیہہِ اَفْخَمْ حَضْرَتِ سَیِّدُنَا اِمَامِ اَعْظَمْ اَبُوْحَنِیْفَہ نُعْمَانْ بِنْ ثَابِترضی اللہُ تعالٰی عنہ
حمد ِ باری تعالیٰ:
    سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جو قدیم کی صفت سے متصف ہے، ہر موجود شئے کے وجود سے پہلے ہے، فضل و کرم اور جود و عطااس کے اوصاف ہیں،وہ اپنی وحدانیت میں اولاد اور آباؤ اجداد سے پاک ہے ۔نہ اس کی بیوی ہے ،نہ شوہر،نہ اس کی کوئی اولادہے، نہ وہ کسی کی اولاد۔ وہ ریت کے ذروں، پانی کے قطروں اور بالیوں اور انگور کے خوشوں وغیرہ کے دانوں کی تعدادبھی جانتا ہے۔وہ سخت اندھیری و تاریک راتوں میں خشکی و تری کے ہر ذرے کی حرکت کو ملاحظہ فرما رہا ہے۔ ایسا حکمت والا ہے جو سخت مضبوط چٹانوں سے نہریں نکالتا ہے۔ خشک درختوں سے تر و تازہ پھل پیدا کرتاہے۔ فکریں اس کی تصویرکشی نہیں کر سکتیں ۔ سمتیںـ اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں۔ تقدیر اس کے لئے رکاوٹ نہیں بن سکتی۔زمانے اسے فنا نہیں کر سکتے۔آنکھوں میں اُس کے ادراک کی طاقت نہیں۔وہ یکتا معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ عطا کرنے والا ہے،اس کی عطا میں کوئی رکاوٹ ڈالنے والا نہیں۔اس کے فیصلے کو ٹالنے والا کوئی نہیں۔ وہ ایساکریم ہے کہ بندہ کتنی ہی مرتبہ اس کے دروازے سے اعراض کرے پھر بھی اسے بڑے بڑے انعامات عطافرماتاہے ۔ وہ ایسا حلیم ہے کہ انسان کو  گناہوں میں مبتلا دیکھتا ہے پھر بھی اپنے حلم اور مہربانی سے اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے ۔وہ ایسا غفَّار ہے جو  گناہوں کو بخشتا، عیبوں کو چھپاتا اورپچھلے  گناہ معاف فرمادیتا ہے ۔وہ ایسا قہارہے جو سب جابروں ،ظالموں پر غالب ہے، سب شکست دینے والوں کو شکست دیتا ہے اور بغض وعناد کی تلوار سونتنے والوں کو شدت و سختی کی مار مارتا ہے ۔

    پاک ہے وہ ذات جس نے انسانی فکروں کو اپنے عظمت و جلال اور انوار و تجلیات کے ادراک سے گم گشتۂ راہ کردیا اور عقلوں کواپنی قدیم ذات کی حقیقت تک پہنچنے سے عاجز کردیا۔ اس نے وضاحت اور کلام کے بعد اپنے اسرار کو اشاروں سے تعبیر کرنے سے زبانوں کو گونگا کردیااور اپنا احاطہ کرنے سے دلوں کو حیرت زدہ کردیا اور اس کا مقصد وہم میں مبتلا کرنا نہیں۔ وہ کریم ہے ،عظمت و بزرگی والا ہے، ہمیشہ سے ہے ،تنہا ہے، نہ اس کی کوئی اولاد ہے، نہ وہ کسی کی اولاد ، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں،وہ ہر طرح کے مماثل،مشابہ ، ضد اور نقیض سے پاک ہے۔ تمام احسانات پر شکر اور تمام تعریفوں کا مستحق وہ ہے جس نے اپنے گنہگارو ذلیل بندوں پر اپنا خوبصورت پردہ ڈال رکھا ہے۔ وہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔ ان کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ ربوبیت اس کی پہچان ہے۔ اُلوہیت اس کی صفت ہے۔ وہ اپنی حقیقتِ وحدانیت میں منفرد ہے۔خیال وگمان سے پاک ہے ۔
Flag Counter