کے غلاف سے چمٹا ہوا ہوں، اے میرے اللہ عَزَّوَجَلَّ !تو دلوں کے بھید اور پوشیدہ باتوں کوخوب جانتا ہے،میں تیری بارگاہ میں پیدل چل کر حاضر ہوا ہوں کیونکہ میں تیری محبت میں مبتلا ہوں، میں تو بچپن سے ہی تیری محبت و چاہت میں گرفتار ہو گیا تھاجس وقت مجھے محبت کا صحیح مفہوم بھی معلوم نہ تھا۔ اے لوگو ! مجھے ملامت نہ کروکیونکہ میں توابھی محبت کے اصول سیکھ رہا ہوں اوراے میرے محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ ! اگر میری موت کا وقت قریب آچکا ہے تو پھر مجھے اُمید ہے کہ میں تیرا وصال پا کراپنی محبت کا حصہ حاصل کر لوں گا۔''پھر وہ سجدے میں گر گیا۔ میں اس کی طرف دیکھتا رہا۔جب اس کا سجدہ بہت طویل ہو گیا تو میں نے اس کو حرکت دی تو معلوم ہوا کہ اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی ہے۔مجھے بہت افسوس ہوا،میں اپنی سواری کے جانور کی طرف گیا اور کفن کے لئے ایک کپڑا لیا اور غسل دینے والے کی مدد طلب کی ۔جب واپس اس لڑکے کے پاس پہنچا تو وہاں کوئی موجود نہ تھا۔ اس کے متعلق تمام حاجیوں سے پوچھامگر مجھے کوئی ایسا شخص نہ ملا جس نے اُسے زندہ یا مُردہ دیکھا ہوتومیں سمجھ گیا کہ وہ لڑکا مخلوق کی نظروں سے پوشیدہ تھا اور اُسے میرے علاوہ کسی نے نہ دیکھا، میں اپنی قیام گاہ میں آکر سو گیا۔
خواب میں، مَیں نے اُسے ایک بہت بڑی جماعت کے آگے آگے دیکھا کہ اس پر خوشی کے آثار نمایاں تھے۔میں نے اس سے پوچھا:''کیا تم میرے ساتھ نہ تھے؟'' تو اس نے جواب دیا: ''یقینا میں آپ کے ساتھ ہی تھا۔''میں نے اس سے پوچھا: ''کیا تم مر نہیں گئے تھے؟'' تو اس نے جواب دیا: ''ایسا ہی ہے۔''میں نے کہا: ''میں تو تمہیں کفن دینے کے لئے تلاش کر رہاتھاتاکہ تجہیز وتکفین کے بعد تمہاری تدفین عمل میں لاؤں،مگر جب میں واپس آیا تو تم موجود ہی نہ تھے۔''تو اس نے جواب دیا: ''اے ابراہیم! جس ذات نے مجھے شہر سے نکالا اور اپنی محبت کا شوق عطاکیااور میرے گھر والو ں سے مجھے دور کردیا،اسی نے مجھے سب کی نظروں سے چھپاکر کفن بھی دے دیا۔''
پھر میں نے پوچھا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟'' اس نے جواب دیا:'' مجھے میرے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے سامنے کھڑا کیا اور فرمایا:''تجھے کیاچاہے؟''میں نے عرض کی: ''یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ!تو خوب جانتاہے۔'' اس نے ارشاد فرمایا: ''تو میرا سچا بندہ ہے، میرے نزدیک تیرامقام یہ ہے کہ میرے اور تیرے درمیان کبھی حجاب نہ ہو گا۔''پھر مزید ارشاد فرمایا:''اور بھی کچھ چاہے؟''میں نے عرض کی:''میں جس بستی میں رہتا تھا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔''ارشاد فرمایا: ''میں نے اس بستی کے حق میں تیری شفاعت بھی قبول فرمائی۔'' حضرتِ سیِّدُناابراہیم خواص رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ پھر اس نے مجھ سے مصافحہ کیا۔ اس کے بعدمیں بیدار ہو گیا اور ارکانِ حج ادا کرنے کے بعد قافلے والوں کے ساتھ چل پڑا۔جس