Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
311 - 649
اُٹھے اوراُن کے سامنے دُنیا کو دُلہن کی طرح سجاکر پیش کیاگیالیکن انہوں نے کہا:
اِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوۡسًا قَمْطَرِیۡرًا ﴿۱۰﴾
ترجمۂ کنز الایمان :بے شک ہمیں اپنے رب سے ایک ایسے دن کا ڈر ہے جو بہت ترش نہایت سخت ہے۔(پ۲۹،الدھر:۱0)

    یہ وہ دن ہے جس کی ہولناکیوں سے تمام لوگ متحیر وپریشان ہوں گے، اس کی شدت سے آنکھوں سے نیند اُڑجائے گی۔ (مگر نیک لوگ شاداں وفرحاں ہوں گے) جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
فَوَقٰىہُمُ اللہُ شَرَّ ذٰلِکَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىہُمْ نَضْرَۃً وَّ سُرُوۡرًا ﴿ۚ۱۱﴾
ترجمۂ کنز الایمان :تو انہیں اللہ نے اس دن کے شر سے بچا لیااور انہیں تازگی اور شادمانی دی ۔(پ۲۹،الدھر:۱۱)

    مقرَّبینِ بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ نے انوار کے پردے پھاڑ ڈالے اورایسے باغات میں عزیزو غفَّار ربّ عَزَّوَجَلَّ کا قرب پانے میں کامیاب ہوگئے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ملائکہ شب و روز ان کی خدمت کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ ۚ اِذَا رَاَیۡتَہُمْ حَسِبْتَہُمْ لُؤْلُؤًا مَّنۡثُوۡرًا ﴿۱۹﴾
ترجمۂ کنز الایمان :اور ان کے آس پاس خدمت میں پھریں گے ہمیشہ رہنے والے لڑکے،جب تو انہیں دیکھے تو انہیں سمجھے کہ موتی ہیں بکھیرے ہوئے۔(پ۲۹، الدھر:۱۹)

    یہ وہ لوگ ہیں جنہیں بروزِقیامت بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی، نہ حسرت و ندامت پشیمان کرے گی، یہ بخیریت طویل سفر کے بعد خوش و خرم بالاخانوں اور محلات میں سکونت پذیر ہوں گے،پھر انہیں جنت میں بشارت وخوشخبری دیتے ہوئے کہاجائے گا:
اِنَّ ہٰذَا کَانَ لَکُمْ جَزَآءً وَّ کَانَ سَعْیُکُمۡ مَّشْکُوۡرًا ﴿٪۲۲﴾
ترجمۂ کنز الایمان : ان سے فرمایا جائے گایہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری محنت ٹھکانے لگی۔(پ۲۹، الدھر:۲۲)

    ان کا مالک عَزَّوَجَلَّ ان کو اپنی بارگاہ میں حاضر کر کے اپناقرب عطا فرمائے گا، پھر اپنی محبت و انس کے پیالے میں پاکیزہ شراب سے ان کو سیراب کریگااور ارشاد فرمائے گا: ''اے میرے محبوب بندو! طویل عرصہ تم میرے دروازے پر کھڑے ہو کر میری بارگاہ میں عبادت سے لطف اندوزہوتے رہے، تم نے میری نازل کردہ مصیبتوں پر صبر کیا،میں تمہیں نعمتوں والے گھر یعنی جنت میں ٹھکانہ عطا کروں گااور تمہاری آنکھوں کو اپنے لازوال حسن و جمال کے دیدار سے سیراب کروں گااور تمہیں بہت زیادہ اجر وثواب عطا کروں گا۔''
لکڑی کا بُرادہ میدہ بن گیا:
    حضرتِ سیِّدُناابو مسلم خولانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ صدقہ و ایثار کو بہت زیادہ پسند کرتے تھے۔ بعض اوقات اپنی غذا بھی صدقہ کر دیتے اورخود رات کو بھوکے سوتے۔ ایک صبح اس حالت میں کی کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے گھر سوائے ایک درہم کے کچھ نہ تھا۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی زوجۂ محترمہ نے عرض کی: '' اس درہم سے آٹا خرید لائیں تاکہ ہم اسے گوندھ کر بچوں کے لئے روٹی پکا لیں،بچے مزید بھوک برداشت نہیں کریں گے۔''آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ایک درہم اور توشہ دان (کھانے کا برتن)لیا اور بازار کی طرف چل
Flag Counter