سب خوبیاں اس ذات کے لئے ہیں جس نے اپنے محبین کے دلوں کو اپنی محبت کے اسرارسے لبریز کیا ۔ اور ان کے چہروں کو اپنے نور سے منور کیا ۔اور چمکتے دمکتے تاجوں سے ان کو عزت و وجاہت عطا فرمائی۔اور ان کے لئے واضح طور پر ولایت کا فیصلہ فرما دیااور انہیں راہِ معرفت کی ہدایت دی تو وہ ہمیشہ اس کی بارگاہ میں عبادت کرتے رہے۔ان کے احوال میں تبدیلی نہ آئی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں اپنے بھیدوں پر آگاہ فرمایااور ا ن کے دلوں پر تجلِّی فرمائی توان کے خالص جواہر کو پاک وصاف فرما کر انہیں مزید ہدایت و بصیرت عطا فرما دی ۔ انہیں اپنے دیدار کی پاکیزہ شراب عطا فرمائی اور پردے اٹھا دئیے۔ اور فرمایا:'' میرے محبوب بندوں کو خوش آمدید! آج تم کسی غم سے نہ ڈرو۔'' تو کچھ خوشی سے جھوم اُٹھے، کچھ ایسے تھے کہ جب ان پر تجلیاتِ الٰہیہ کی مزید بارش ہوئی تو ان پر راز منکشف ہونے لگے اور بعض نے بارگاہِ خالق عَزَّوَجَلَّ کا قرب پسند کرلیا۔ ایسوں کی ہی شان میں اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوۡنَ مِنۡ کَاۡسٍ کَانَ مِزَاجُہَا کَافُوۡرًا ۚ﴿۵﴾
ترجمۂ کنز الایمان :بے شک نیک پئیں گے اس جام میں سے جس کی ملونی کافور ہے۔ (پ۲۹،الدہر:۵)
یہی لوگ بارگاہِ ربُّ العزَّت جَلَّ جَلَالُہٗ میں قیام کر کے حضوری سے لطف اندوز ہوتے ہیں،اس کی نعمتوں میں غوطہ زن رہتے ہیں، سرکشوں کو توڑتے اور ٹوٹے ہوؤں کو جوڑتے ہیں۔اور اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی شان بیان فرماتا ہے:یُوۡفُوۡنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوۡنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِیۡرًا ﴿۷﴾
ترجمۂ کنز الایمان :اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی پھیلی ہوئی ہے۔ (پ۲۹، الدھر:۷)
ان کا اخلاق صبر وشکر اور شعار خشوع یعنی گِڑگِڑاناہے،ان کے افعال رکوع وسجود ہیں، اُن کی پسلیاں بھوک سے لپٹ جاتی ہیں،وہ سائل اور فقیر کو اپنی ذات پرترجیح دیتے ہیں۔ چنانچہ ، اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ حکیم میں ارشاد فرماتا ہے:وَ یُطْعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیۡنًا وَّ یَتِیۡمًا وَّ اَسِیۡرًا ﴿۸﴾
ترجمۂ کنز الایمان :اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اسیر کو۔(پ۲۹،الدھر:۸)
اُن کی نگاہیں جھکی جھکی، زبانیں خاموش اور چہرے غبار آلود ہوتے ہیں اور وہ فقراء ومساکین سے نرم لہجے میں بات کرتے اور کہتے ہیں:اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللہِ لَا نُرِیۡدُ مِنۡکُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُکُوۡرًا ﴿۹﴾
ترجمۂ کنز الایمان :ان سے کہتے ہیں ہم تمہیں خاص اللہ کے لئے کھانا دیتے ہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں مانگتے ۔(پ۲۹، الدھر:۹)
اُنہوں نے محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے جام پئے تو اُن کے چہرے مشاہدۂ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کے انوار سے آفتاب کی طرح چمک