سب خوبیاں اس ذات کے لئے ہیں وہم وگمان جس کا ادراک نہیں کر سکتے،نہ آنکھیں اس کااحاطہ کر سکتی ہے۔ نہ اسے آفات آتی ہیں نہ موت۔ اس نے کتاب کو نازل فرمایا،بادل برسایا، تر پھلوں کو خشک ٹہنیوں سے نکالااور انسان کو خشک بجتی مٹی سے پیدا کیاجو اصل میں ایک سیاہ بودار گارا تھی۔ وہ خود اپنی قدرتِ کاملہ کو یوں بیان فرماتا ہے:
وَ اِذَا قَضٰۤی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۱۱۷﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور جب کسی بات کا حکم فرمائے تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ ہو جا،وہ فوراًہوجاتی ہے۔(پ۱،البقرہ:۱۱۷)
اس کی قدرت سے سب کچھ پیدا ہوا۔ اس کی رحمت سے لگاتار نعمتیں ملیں۔ اس کی حکمت سے زمین وآسمان شق ہوئے۔ اس کی مشیّت وارادے سے سعادت و شقاوت لکھی گئی۔
1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِشہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل، سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : '' یہ پہلے نفخہ کا بیان ہے ۔اس نفخہ سے جو بے ہوشی طاری ہوگی اس کا یہ اثر ہوگا کہ ملائکہ اور زمین والوں سے اس وقت جو لوگ زندہ ہوں گے، جن پر موت نہ آئی ہوگی، وہ اس سے مرجائیں گے اور جن پر موت وارد ہوچکی پھراللہ تعالیٰ نے انہیں حیات عنایت کی وہ اپنی قبروں میں زندہ ہیں ۔جیسے کہ انبیاء و شہداء۔ ان پر اس نفخہ سے بے ہوشی کی سی کیفیّت طاری ہوگی اور جو لوگ قبروں میں مرے پڑے ہیں انہیں اس نفخہ کا شعور بھی نہ ہوگا۔(جمل وغیرہ)۔ اس استثناء میں کون کون داخل ہے۔ اس میں مفسِّرین کے بہت اقوال ہیں:'' حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ نفخہ صعق سے تمام آسمان اور زمین والے مرجائیں گے سوائے جبرئیل و میکائیل و اسرافیل و ملک الموت کے۔ پھر اللہ تعالیٰ دونوں نفخوں کے درمیان جو چالیس برس کی مدت ہے، اس میں ان فرشتوں کو بھی موت دے گا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مستثنٰی شہداء ہیں جن کے لئے قرانِ مجید میں''بَلْ اَحْیَاءُ ''آیا ہے۔ حدیث شریف میں بھی ہے کہ وہ شہداء ہیں جو تلواریں حمائل کئے گردِ عرش حاضر ہوں گے۔ تیسرا قول حضرتِ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ'' مستثنیٰ حضرتِ موسٰی علیہ السلام ہیں۔ چونکہ آپ طُور پر بے ہوش ہوچکے ہیں اس لئے اس نفخہ سے آپ بے ہوش نہ ہوں گے۔ بلکہ آپ متیقظ، ہوشیار ر ہیں گے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ مستثنیٰ جنّت کی حوریں اور عرش و کرسی کے رہنے والے ہیں ۔ضحاک کا قول ہے کہ ''مستثنیٰ رضوان اور حوریں اور وہ فرشتے جو جہنّم پر مامور ہیں وہ اور جہنّم کے سانپ بچھو ہیں ۔ (تفسیر کبیر وجمل) ۔ یہ نفخہ ثانیہ ہے جس سے مردے زندہ کئے جائیں گے اپنی قبروں سے اور دیکھتے ہوئے کھڑے ہونے سے یا تو یہ مراد ہے کہ وہ حیرت میں آکر مبہوت کی طرح ہر طرف نگاہیں اُٹھا اُٹھا کر دیکھیں گے ۔یا یہ معنی ہیں کہ ''وہ یہ دیکھتے ہوں گے کہ اب انہیں کیا معاملہ پیش آئے گا اور مؤمنین کی قبروں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے سواریاں حاضر کی جائیں گی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے،
'' یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا۔''