| حکایتیں اور نصیحتیں |
مرید نے دوبارہ اسی طرح کا شعر پڑھا، جس کا مفہوم یہ ہے:'' میں حاضر ہوں،اے وہ جو اَزَل سے مجھے اپنی طرف بُلا تا رہا اور اپنے پوشیدہ لُطف وکرم سے بار بار اپنی بارگاہ کی طرف میری رہنمائی فرماتا رہا (لیکن میں اس سے رُو گردانی کرتا رہا)۔'' راہب نے پھرچیخ ماری اور کہا:'' میں حاضر ہوں،اے میرے مالک! میں حاضر ہوں،اے میرے مالک عَزَّوَجَلَّ! تُو نے مجھے اپنی رحمت کی طرف بُلایا ہے،
''اَنَا اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ
یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول ہیں۔'' زُنَّار کو توڑ دیا، عیسائیوں کا لباس اُتار دیا۔حضرت سیِّدُنا جنید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس کو گدڑی پہنائی اور آپ اور آپ کا قافلہ اس کے اسلام لانے اور اس کی گردن جہنم سے آزاد ہونے پر بہت مسرور ہوئے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ہزار دینار نکال کر اس کو دیئے جو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے پاس جمع تھے ۔ پھر وہ راہب اپنے گرجا گھر وغیرہ کو چھوڑ کر چہرہ چھپائے ہوئے کہیں چلا گیا، نہیں معلوم کہ وہ کس سمت گیا۔
جب حضرت سیِّدُنا جنید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا قافلہ مکہ مکرَّمہ پہنچا اور حرم پاک میں داخل ہوااور طواف کر کے جب سب ایک جگہ اکٹھے ہوئے تو ایک شخص کو کعبۃاللہ شریف کے غلاف سے لپٹا ہوا دیکھا، وہ کہہ رہا تھا: '' اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! تو نے مجھ پر اپنا پردہ اُٹھا دیاحتیٰ کہ میں نے تیری وحدانیت کی گواہی دی،تُونے مجھے اپنی بارگاہ میں بُلایاتَومیں ''لَبَّیْکَ''کہتے ہوئے حاضر ہو گیا، اے وہ ذات جس نے مجھے عرفان کی دولت عطا فرمائی تو مجھے اس کی معرفت حاصل ہو گئی! مجھے اپنی رضا کے لئے حج کرنے کی توفیق عطا فرما۔ حضرت سیِّدُنا جنید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ایک مرید سے فرمایا: ''دیکھو! یہ کلام کرنے والا کون ہے؟'' وہ مرید اس کے پاس گیا تو دیکھا کہ یہ تو وہی راہب ہے۔جب اسے حضرت سیِّدُناجنیدرحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے کہا گیا تو راہب نے کہا: ''اے بھائی! حضرت سیِّدُناجنیدرحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں میرا سلام عرض کرنا اور یہ بھی عرض کرناکہ میں نے آپ کو اپنے پاس ٹھہرایا اور کھانا بھی حاضرکیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے اسلام کی دولت عطا فرمائی اور عزت کے لباس سے نوازا، یہاں تک کہ میں احرام باندھ کر حرم پاک میں داخل ہو گیا ہوں، اب میری عزَّت وذلت اسی کے پاس ہے۔'' چنانچہ ، مرید لوٹا اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کواس کے متعلق بتایا تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ خود اٹھ کر اس کے پاس چلے گئے، اور اسے سینے سے لگا کر آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اورارشاد فرمایا: '' اے میرے دوست ! آپ کو قربِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی لذت کیسے نصیب ہوئی؟'' اس نے جواب دیا: ''اے میرے سردار! جب میں نے کھنڈرات کو چھوڑا اور سفر اختیار کئے تو مجھ پر قبولیت کی ہوائیں چلنے لگیں،اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی بارگاہ تک پہنچنے کا دروازہ کھول دیا، جس سے میرے لئے اپنے مقصود تک رسائی حاصل کرنا ممکن ہو گیا۔'' پھر اس نے ایک چیخ ماری اور زمین پر تشریف لے آیا۔جب ہم نے دیکھا تو اس کی جان جانِ آفریں کے سپرد ہو چکی تھی۔؎ میرا ہر عمل بس تیرے واسطے ہو کر اخلاص ایسا عطا یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ!