دنوں کے بعد پانی ختم ہو گیا۔ قافلے نے ایک پہاڑ کے دامن میں پڑاؤ کیا ہوا تھا ، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے ایک مرید سے کہا: ''یہ مشکیزہ لو اور اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر پاک مِٹی لے آؤتاکہ ہم اس سے تیمم کر یں ، کیونکہ نماز کا وقت ہو چکا ہے۔''اس نے حسب ِ حکم مشکیزہ لیا اور پہاڑ پر چڑھ کر مشکیزے میں مٹی ڈالنے لگا۔اچانک اس نے ایک آواز سنی ۔اِدھر ُادھر دیکھا توگرجا گھر میں ایک راہب نظر آیا۔ راہب نے پوچھا: '' ا س مٹی کا کیا کرو گے؟''اس نے جواب دیا: '' ہم اُمَّتِ محمدیہ علٰی صاحبھا الصلٰوۃ والسلام کے لوگ ہیں۔ جب پانی نہیں ملتا تو ہم مٹی سے تیمم کر لیتے ہیں۔'' راہب بولا: میرے ہاں ایک صاف و شفاف کنواں ہے، تم اس سے پانی بھی پی لو اور وضو بھی کر لو۔'' اس مرید نے کہا: ''پہاڑ کے نیچے ہمارا ایک قافلہ ٹھہرا ہوا ہے۔''راہب نے کہا : ''تم جاؤ اور سب کو بُلا لاؤ۔''و ہ حضرت سیِّدُنا جنید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور راہب کے متعلق بتایا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے فرمایا:'' جا کر اُسے کہو، ہم ستر افراد ہیں،کیا اس کھنڈر میں آجائیں گے؟''وہ مرید دوبارہ گیا اور راہب کو جا کر ساری بات بتائی تو اس نے کہا: '' اگر چہ ایک ہزارہی کیوں نہ ہوں کیونکہ میں محمد( صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) اورآپ کی امت کی قدر کرتااور ان سے محبت کرتا ہوں ۔''جب مرید نے واپس جا کر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو بتایا تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سارے قافلے کو لے کر پہاڑ پر چڑھ گئے۔راہب نے اس کھنڈر کا دروازہ کھول دیا۔ سبھی نے خوب سیر ہو کر اس کنوئیں سے پانی پیا اور وضو کر کے نماز ادا کی۔ جب فارغ ہوئے تو راہب نے سب کو ایک ایک بڑی پلیٹ پیش کی جس میں طرح طرح کے کھانے تھے۔ سب نے کھانا کھایا۔ پھر ایک طشت اورلوٹا حاضر کیا ،سب نے اپنے ہاتھوں کو دھو کر مُشک لگائی۔جب راہب نے مہمان نوازی کر لی تو پوچھا: ''کیا تم میں سے کوئی اس مناسبت سے قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے والا ہے؟ حضرت سیِّدُنا جنید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ایک مرید کو اشارہ کیا تو اس نے اس آیتِ کریمہ کی تلاوت شروع کی: