منقول ہے کہ صدقہ کے حروف چار ہیں: صاد،دال، قاف اورہاء ۔ صادسے مراد یہ ہے کہ صَدَقہ کرنے والا دنیا و آخرت کی تکالیف سے محفوظ رہتا ہے۔ دال سے مراد یہ ہے کہ بروزِ قیامت جب ساری مخلوق حیران وپریشان ہو گی تو صَدَقہ کرنے والے کی جنت کی طرف رہنمائی کی جائے گا۔ قاف سے مرادیہ ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ اسے اپنا خاص قرب عطافرماتا ہے۔ ہاء سے مراد یہ ہے کہ اسے اعمالِ صالحہ کی ہدایت سے نوازا جاتا ہے تاکہ اللہ عزَّوَجَلَّ اس سے راضی ہو جائے۔
حضرت سیِّدُناابو القاسم مذکورعلیہ رحمۃاللہ الغفور فرماتے ہیں کہ'' حضرت سیِّدُنا ابراہیم علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے اخلاق میں سے یہ تھا کہ وہ اپنے پاس موجود سب سے اچھی، بہتر اور خوبصورت شئے صَدَقہ کرتے، آپ سے عرض کی گئی:''اگر آپ اس سے کم صدقہ کریں تب بھی آپ علیہ االسلام کو کفایت کریگا۔'' توآپ علیہ االسلام نے ارشاد فرمایا:'' کیااللہ عزَّوَجَلَّ مجھے ملاحظہ نہیں فرما رہا کہ میں اُس سے اپنے پاس موجود گھٹیا چیز کے بدلے بہتر چیز طلب کرتاہوں ۔''
حضرت سیِّدُنا عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ،حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکر ِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمانِ حقیقت نشا ن ہے: ''دو چیزیں شیطان کی طرف سے ہیں اور دو اللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف سے۔'' پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: