Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
235 - 649
    حضرت سیِّدُنا سالم بن جَعْد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ''صَدَقہ برائی کے ستر دروازوں کو بند کر دیتا ہے اور پوشیدہ صدقہ اعلانیہ صدقے سے ستر گنا افضل ہے ۔''
 (المتجر الرابح فی ثواب العمل الصالح، ابواب الصدقات، ثواب صدقۃ السر، ص۲۸۷)
    منقول ہے کہ صدقہ کے حروف چار ہیں: صاد،دال، قاف اورہاء ۔ صادسے مراد یہ ہے کہ صَدَقہ کرنے والا دنیا و آخرت کی تکالیف سے محفوظ رہتا ہے۔ دال سے مراد یہ ہے کہ بروزِ قیامت جب ساری مخلوق حیران وپریشان ہو گی تو صَدَقہ کرنے والے کی جنت کی طرف رہنمائی کی جائے گا۔ قاف سے مرادیہ ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ اسے اپنا خاص قرب عطافرماتا ہے۔ ہاء سے مراد یہ ہے کہ اسے اعمالِ صالحہ کی ہدایت سے نوازا جاتا ہے تاکہ اللہ عزَّوَجَلَّ اس سے راضی ہو جائے۔

    حضرت سیِّدُناابو القاسم مذکورعلیہ رحمۃاللہ الغفور فرماتے ہیں کہ'' حضرت سیِّدُنا ابراہیم علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے اخلاق میں سے یہ تھا کہ وہ اپنے پاس موجود سب سے اچھی، بہتر اور خوبصورت شئے صَدَقہ کرتے، آپ سے عرض کی گئی:''اگر آپ اس سے کم صدقہ کریں تب بھی آپ علیہ االسلام کو کفایت کریگا۔'' توآپ علیہ االسلام نے ارشاد فرمایا:'' کیااللہ عزَّوَجَلَّ مجھے ملاحظہ نہیں فرما رہا کہ میں اُس سے اپنے پاس موجود گھٹیا چیز کے بدلے بہتر چیز طلب کرتاہوں ۔''

    حضرت سیِّدُنا عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ،حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکر ِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمانِ حقیقت نشا ن ہے: ''دو چیزیں شیطان کی طرف سے ہیں اور دو اللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف سے۔'' پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
(3) اَلشَّیۡطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاۡمُرُکُمۡ بِالْفَحْشَآءِ ۚ وَاللہُ یَعِدُکُمۡ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَفَضْلًا ؕ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ
ترجمۂ کنزالایمان:شیطان تمہیں اندیشہ دلاتاہے محتاجی کااورحکم دیتا ہے بے حیائی کا،اوراللہ تم سے وعدہ فرماتاہے بخشش اورفضل کا،اوراللہ وسعت والا، علم والا ہے۔(پ3، البقرۃ: 268)

    (حضرت سیِّدُنا شعیب حریفیش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں کہ) شیطان تمہیں صدقہ وخیرات سے منع کرتا اور گناہوں کا حکم دیتا ہے جبکہ اللہ عزَّوَجَلَّ تمہیں فرمانبرداری اور صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ اس کے ذریعے تم اس سے مغفرت اور اس کا فضل پاؤ اوراللہ عَزَّوَجَلَّ صدقہ کرنے والے کا ثواب جانتا ہے۔
(الدر المنثور، البقرۃ، تحت الآیۃ ۲۶۸، ج ۲، ص۶۵ )
    حضرت سیِّدُنا ابوذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ زمین پر جو بھی صدقہ نکالا جاتا ہے وہ ستر شیطانوں کے جبڑوں سے چُھڑا کر دیا جاتا ہے وہ سب بندے کو صدقہ دینے سے روکتے ہیں۔''
(الزھد لابن المبارک،باب الصدقۃ، الحدیث۶۴۹، ص۲۲۸)
Flag Counter