Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
234 - 649
    حضرت سیِّدُنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے پیارے حبیب ،حبیب ِ لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''صدقہ اور صلہ رحمی سے اللہ عزَّوَجَلَّ عمرمیں برکت دیتا، بُری موت کودفع کرتا اورناپسندیدہ اور قابلِ احتراز شئے کو دور کرتا ہے۔''
(مسند ابی یعلی الموصلی، مسند انس بن مالک ، الحدیث۴0۹0، ج۳، ص۳۹۷)
    حضرت سیِّدُناسعید بن مسعود کِندی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے: ''جوشخص دن یارات کو صدقہ کرتاہے تو وہ سانپ یابچھوکے کاٹنے، گِرکر مرنے یا اچانک موت سے محفوظ رہتا ہے۔''

    حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ شفاعت نشان ہے:''صبح سویرے صدقہ کیاکرو کیونکہ مصیبت صدقہ سے سبقت نہیں لے جا سکتی۔''
( السنن الکبری للبیھقی،کتاب الزکاۃ،باب فضل من اصبح صائما ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث ۷۸۳۱ ، ج۴ ،ص ۳۱۸)
    بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ''بندہ صَدَقہ کرتا ہے اور بلاء نازل ہو رہی ہوتی ہے توصَدَقہ اوپر بلند ہوتا ہے، ان دونوں کا آمنا سامنا ہوتا ہے، نہ بلاء صَدَقہ پر غلبہ پا سکتی ہے نہ صَدَقہ بلاء پر۔ جب تک اللہ عزَّوَجَلَّ چاہے دونوں زمین وآسمان کے درمیان ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں۔''

    نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرما نِ عالیشان ہے، اللہ عزَّوَجَلَّ(قیامت کے دن) فرمائے گا: ''اے میرے بندے!میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا تو نے مجھے نہ کھلایا۔میں نے تجھ سے پانی طلب کیا تو نے مجھے نہ پلایا۔میں نے تجھ سے کپڑے طلب کئے تو نے مجھے نہ دیئے۔''تو بندہ عرض کریگا:'' اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ!وہ کیسے؟''اللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا: ''تیرے قریب سے فلاں بھوکا اور فلاں ننگا گزراتھا مگر تُونے اپنے مال میں سے کوئی چیز اُسے نہ دی، آج میں تجھ سے اپنا فضل روک لوں گاجیسا کہ تو نے روک لیاتھا۔''
( صحیح مسلم ،کتاب البروالصلۃ والاداب،باب فضل عیادۃ المریض،الحدیث۲۵۶۹،ص۱۱۲۸،مختصرًا)
    حضرت سیِّدُنا حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:'' اگر اللہ عزَّوَجَلَّ چاہے تو تمہیں فقیر بنا دے کہ تم میں کوئی امیرنہ رہے اور اگر چاہے تو تمہیں غنی بنادے کہ تم میں کوئی محتاج نہ رہے لیکن وہ تمہیں ایک دوسرے کے ذریعے آزماتاہے۔''

    حضرت سیِّدُنا ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ حضورسیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرما نِ مغفرت نشان ہے : ''پوشیدہ طور پرصَدَقہ دینا اللہ عزَّوَجَلَّ کے غضب کو ٹھنڈا کرتاہے ،اور نیکیاں برائی کے دروازوں سے بچاتی ہیں ۔صلہ رحمی سے عمر میں اضافہ اور رزق میں کشادگی ہوتی ہے۔''
  (المعجم الاوسط، الحدیث۹۴۳، ج۱، ص۲۷۳، بتغیرٍقلیلٍ)
Flag Counter