Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
209 - 649
اسے کہا:''اب ہمارے گھر چلئے ۔''اس نے جواب دیا:''نمازِ عشاء پڑھ کر چلیں گے۔'' نمازِعشاء پڑھنے کے بعد میں اس کو اپنے گھر لے آیا جس میں تین کمرے تھے:ایک میرا اور میرے بچوں کی امی کا تھا، دوسرے میں ہماری بیس سال سے معذور لڑکی رہتی تھی اور تیسرے میں ہمارا مہمان تھا۔رات کے آخری حصے میں، مَیں اپنی بیوی کے پاس بیٹھاہواتھاکہ اچانک کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے پوچھا:''کون ہے؟'' تو باہر سے آواز آئی: ''میں آپ کی فلاں بیٹی ہوں ؟''میں نے کہا :''وہ تو بیس سال سے معذورہے اور گھر میں پڑا ہوا محض گوشت کاایک ٹکڑا ہے، وہ کیسے سیدھی ہوکر چل سکتی ہے؟''یہ سن کر وہ کہنے لگی :'' میں آپ کی وہی بیٹی ہوں، آپ دروازہ توکھولیں۔''جب میں نے دروازہ کھول کر دیکھا تو بالکل سیدھی کھڑی تھی۔ ہم نے اس سے کہا: ''ہمیں بتاؤ کہ تم کیسے شفا یاب ہوئی ہو؟ تو اس نے بتایاکہ''میں نے آپ کو اپنے اس مہمان کا بھلائی کے ساتھ تذکرہ کرتے ہوئے سنا تو میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اس کا وسیلہ پیش کروں کہ وہ میری تکلیف دور کر دے لہٰذا میں نے عرض کی: ''یااللہ عزَّوَجَلَّ! تیری بارگاہ میں ہمارے اس مہمان کی عظمت کا صدقہ!میری تکلیف دور فرمااور مجھے عافیت عطا فرما۔'' یہ دعا کرتے ہی میں سیدھی کھڑی ہوگئی جیسا کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں۔''اس کی یہ بات سن کرمیں اپنے مہمان کی طرف گیا توگھر میں اس کو نہ پایا، دروازے پر آیا تو اس کو بھی بندپایا۔''یہ سارا واقعہ سماعت فرمانے کے بعد حضرت سیِّدُنامعروف کرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ''ہاں! واقعی اولیاء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں چھوٹے بڑے سبھی ہوتے ہیں(اور یہ بھی انہیں میں سے تھے)۔''

    سبحانَ اللہ عزَّوَجَلَّ! کیا شان ہے ان لوگوں کی جنہوں نے محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی وجہ سے عبادت کی نہ کہ جنت کے لئے اور وہ خدا کو پانے کے لئے اس کی بارگاہ میں حاضر رہے نہ کہ بخشش کے لئے۔ پس وہی لوگ معرفت کے نور سے اس کا دیدار کرتے ہیں، شوق کے پروں سے اس کی طرف اڑتے ہیں اور سحری کے وقت اس کی مناجات سے لذت حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
(1) اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ ﴿ۚۖ62﴾
ترجمۂ کنزالایمان :سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔(پ11،یونس:62)
متوکلین کا حال:
    حضرت سیِّدُنا ابوعامر واعظ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں ایک پہاڑ میں چل رہا تھا کہ میں نے ایک زخمی دل والے کی چیخ وپکار سنی جو کہہ رہاتھا: ''اے بیابانوں میں حیرت زدوں کی رہنمائی فرمانے والے! اے خلوتوں میں وحشت محسوس کرنے والوں کی وحشت دور کرنے والے! جب بہادروں کو توانائی کی تلاش ہوتی ہے میں تجھ سے توانائی کا سوال کرتاہوں اور
سے ہدایت عطا فرما اور اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! ان سب کو اپنے سایۂ عفو و کرم میں داخل فرما دے اور ان کو اپنی مغفرت سے نواز دے۔(آمین)
وَصَلَّی اللہ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ وَ سَلَّم
Flag Counter