مجھے علْم ہوتا! کون سا گال ( قبر میں) پہلے خراب ہوگا''پھر حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزيز رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے لگے اور روتے روتے بے ہوش ہوگئے اور ايک ہفتہ کے بعد اس دنيا سے تشريف لے گئے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم !تمہاری بوئی ہوئی فصل کی کٹائی کا وقت قریب آگیا ہے،تم کب تک اس غفلت کا شکار رہو گے؟ قیامت کی ہولناکیاں تمہارے سامنے ہیں کہ جس دن باپ اپنی اولاد سے بھاگے گا، تمہیں اس وقت انتہائی افسوس ہوگاجب تمہارے اعمال کا حساب ہوگا، تُم سوکھی ہوئی اس گھاس کی مانند ہو جاؤ گے جس کو ہوائیں اِدھر اُدھر پھینک رہی ہوتی ہیں۔ تم کب تک اس غفلت میں مبتلا رہوگے حالانکہ توبہ کی قبولیت کا علم تو ظاہر ہو چکا ہے۔اے خواہشات کے سمندر میں غرق ہونے والو! نجات کی کشتی پرسوارہوجاؤاور اپنے افعال سے برائیوں کا جڑسے خاتمہ کردو،اپنے نفس کو ندامت کے ساحل پر ڈال دو پھر تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کو بہت زیادہ کرَم فرمانے والاپاؤ گے۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگا ہ میں ذِلّت اور عاجزی کے ساتھ اپنے ہاتھ پھیلاؤ اور اس گھڑی گریہ وزاری کرتے ہوئے پکارو!اے وہ ذات جس کی نافرمانی کرنااس کو نقصان نہیں دیتی اور نہ ہی جس کی اطاعت کرنااس کو کوئی فائدہ دیتی ہے! یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ہماری خرابیوں کے بدلے درستی عطا فرما اور خسارے کے عوض نفع عطا فرما۔ اے وہ ذات جس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق جس میں چراغ ہے! اپنی رحمت سے ہمارے معاملے میں درگزرفرما۔