| حکایتیں اور نصیحتیں |
قرض ہو تو ہم ادا کردیتے ہیں۔ ' ' بہرحال اعرابی نے اس سے کچھ قبول نہ کیاپھر اس نے چند اشعار کہے، جن کا مفہوم یہ ہے :
'' دنیا کے عطیات کئی سالوں سے لگاتار ہمارے پاس آرہے ہیں کبھی تو میلے کچیلے ہوتے ہیں اور کبھی لذت بخش ہوتے ہیں لیکن میں ان میں سے کسی بھی ایسی شئے کو قبول کرنے کو تیار نہیں جو میرے مرنے کے بعد باقی نہ رہے اورمیں کَل اسے اپنے وارثوں کے لئے چھوڑجاؤں، گویا قبر میں مجھ پر مِٹی ڈالی جارہی ہے اور میرے دوست احباب میرے ارد گرد کھڑے نوحہ کناں ہیں اورگویا وہ دن آچکا جس میں آگ کے شعلے بھڑک کر لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں اور وہ دن سننے والوں کو قسم دے رہا ہے کہ میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی عزت وجلال کی قسم! میں تم سب سے ضرور انتقام لوں گا۔''
جب اعرابی اشعار کہہ چکا تو ہارون الرشید نے افسوس ناک آہ کھینچی اوراس سے اس کے گھر اور شہر کے متعلق دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ رضا بن جعفر صادق بن محمدبن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں، دیہاتیوں کے لباس میں ملبوس رہتے ہیں اورزہد وورع کے پیکر ہیں۔یہ سن کر خلیفہ ہارون الرشید کھڑا ہوگیا اور ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا پھر(حضور نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف نسبت کرتے ہوئے )یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کی:(17)اَللہُ اَعْلَمُ حَیۡثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ ؕ
ترجمہ کنزالایمان :اللہ خوب جانتاہے جہاں اپنی رسالت رکھے۔(۱)(پ8،الانعام: 124)
یہ ایسے برگزیدہ بندے ہیں جو لوگوں کے درمیان اپنی حالت مخفی رکھتے ہیں، وہ پراگندہ سر اور غبار آلود ہوتے ہیں، لوگ ان کی پرواہ نہیں کرتے حالانکہ ان کا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں بَہُت بلند مقام ہوتا ہے۔ یہ تو مقبول بندوں کی صفات ہیں تو اے راندۂ درگاہ!تیری کیسی صفات ہیں ؟ یہ تو مقرَّبین کی صفات ہیں تو اے رب کی بارگاہ سے دھتکارے ہوئے شخص! تیری صفات کیسی ہیں ؟ یہ تو نیک بندوں کی صفات ہیں تو اے محروم شخص! اپنے نفس پر رو۔ اے مسکین !تیرا برا ہو کہ تو دن کے وقت بے کار کاموں میں مصروف رہتا اور رات سونے میں گزارتا ہے۔فقیرکے اوصاف:
دُنیامیں فقیر کے اوصاف یہ ہونے چاہیں:دن کوروزہ رکھے ،رات کوقیام کرے، رکوع وسجودکرنے والا، رب عَزَّوَجَلّ کی رحمت کا طالب، اس کی بخشش میں رغبت رکھنے والا، صبرو شکر کرنے والا، دوسروں سے نرمی وشفقت سے پیش آنے والا، تنہائی
1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: '' یعنی اللہ جانتا ہے کہ نبوّت کی اہلیت اور اس کا استحقاق کِس کو ہے، کس کو نہیں۔ عمر و مال سے کوئی مستحقِ نبوَّت نہیں ہوسکتا ۔''