| حکایتیں اور نصیحتیں |
شخص نے عرض کی: '' یارسول اللہ عزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کیا ہر سال؟''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے خاموشی اختیار فرمائی، اس نے پھر عرض کی: ''یارسول اللہ عزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کیا ہر سا ل؟'' توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''نہیں ،اگرمیں ہاں کہہ دیتا تووا جب ہو جا تا اور اگر (ہر سال) وا جب ہو جاتاتو تم استطا عت نہ رکھتے ۔''
(صحیح مسلم ،کتاب الحج ، باب فرض الحج مرۃ فی العمر ، الحدیث ۱۳۳۷، ص۹0۱)
حج و عمرہ اِکٹھاکرنے کی فضیلت:
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''حج و عمرہ اکٹھا کرو کہ یہ محتاجی اورگناہوں کواس طرح دور کردیتاہے جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو ۔''
(سنن النساءی،کتاب مناسک الحج ، باب فضل المتا بعہ بین الحج والعمرہ ،الحدیث ۲۶۳۱ ، ص ۲۲۵۸)
حضرتِ سیِّدُناابوہریرہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے مروی ہے، شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے : ''حج اور عمرہ کرنے والے اللہ عزَّوَجَلَّ کا گروہ ہیں، اگر وہ اس سے کوئی دعاکریں تووہ قبول فر ما تا ہے اور اگر مغفر ت طلب کر یں تو بخش دیتاہے۔''
(سنن ابن ماجۃ،ابواب المناسک ،باب فضل دعاء الحج ، الحدیث ۲۸۹۲، ص ۲۶۵۲)
دوسری روایت یوں ہے کہ '' حج وعمرہ کرنے والے اللہ عزَّوَجَلَّ کا گروہ ہیں، اگروہ اس سے کوئی چیز مانگیں تووہ عطا فرماتا ہے، اوراگر اس سے مغفرت طلب کریں تو وہ انہیں معاف فرما دیتا ہے،اگر وہ اس سے دعا کریں تو قبول فرماتا ہے اور اگر سفارش کریں تو بھی قبول فرماتا ہے ۔''
(احیاء علوم الدین،کتاب اسرارالحج،الباب الاول،الفصل الاول،فی فضائل الحج،ج۱، ص۳۲۲)
حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا: ''ایک عمرہ دوسرے عمرہ کے مابین گناہوں کا کفارہ ہے اور حجِ مبرورکی جزا جنت ہی ہے ۔''
(صحیح البخاری ،کتاب العمرہ ، باب وجوب العمرہ وفضلھا ،الحدیث ۱۷۷۳، ص ۱۳۹)
حجِ مبرورکی تعریف:
علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حج مبرور وہ ہے جس کے بعد گناہ نہ ہو، جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک حاجی سے فرمایا :''اے حاجی! بلا شبہ اللہ عزَّوَجَلَّ حاجی کے عمل پر نور کی مہرلگا دیتاہے،لہٰذا تو اس سے بچ کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرکے اس مہر کو توڑ دے۔''