حضرتِ سیِّدُنامجاہدعلیہ رحمۃ اللہ الواحد فرماتے ہیں کہ شب ِ قدر میں عبادت اور نیک عمل ایسے ہزار مہینوں کی عبادت اور نیک عمل سے بہتر ہے جس میں شب ِ قدر نہ ہو۔
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ حضور نبئ کریم، ر ء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس بنی اسرائیل کے ایک شخص کا تذکرہ ہوا، جس نے ایک ہزار ماہ اللہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہادکیا۔صحابۂ کرام علیہم الرضوان کو اس سے بہت تعجب ہوا اورتمنا کرنے لگے: ''کاش! ان کے لئے بھی ایسا ممکن ہوتا۔'' توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے عرض کی: ''اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! تو نے میری امت کو کم عمر عطا فرمائی اب ان کے اعمال بھی کم ہوں گے۔'' تو اللہ عزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو شب قدر عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا: ''اے محمد(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)! شب قدرہزار مہینوں سے بہترہے جومیں نے تجھے اور تیری امت کو ہر سال عطا فرمائی ہے۔ یہ رات ماہِ رمضان میں تمہارے لئے اور قیامت تک آنے والے تمہارے امتیوں کے لئے ہے جو ہزارمہینوں سے بہتر ہے۔'' اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: