نہ ہو کہ علمِ الٰہی میں موجودہ حال کے بجائے میرا کوئی اور حال ہو، کہیں ابلیس کی طرح مجھے بھی امتحان میں نہ ڈالدیا جائے۔ کہیں ہاروت و ماروت کی طرح مجھے بھی آزمائش میں مبتلا نہ کر دیا جائے۔
راوی بتاتے ہیں:رسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بھی رونے لگے، حضرت سیِّدُنا جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام بھی رو رہے تھے، دونوں ہستیاں روتی رہیں، آخر کار آواز آئی: اے جبرئیل! اے محمد! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ دونوں کو اپنی نافرمانی سے محفوظ کر لیا ہے۔ سیِّدُنا جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام آسمانوں کی طرف پرواز کر گئے۔ مدینے کے تاجور، شاہِ بحر و بر صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم باہَر تشریف لائے۔ بعض انصار صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے قریب سے گزرے جو ہنس رہے تھے تو ارشاد فرمایا: تم ہنس رہے ہو اور تمہارے پیچھے جہنم ہے، اگر تم وہ باتیں جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم تھوڑا ہنستے اور زیادہ روتے اور تم کھانا پینا چھوڑ کر پہاڑوں کی طرف نکل جاتے اور خوب مشقتیں برداشت کر کے عبادتِ الٰہی بجا لاتے۔
(المعجم الاوسط، ۲ / ۷۸، حدیث: ۲۵۸۳)
جنّت و جہنّم میں لے جانے والی چیزیں
حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبیٔ پاک،