Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
24 - 109
نے عابِدکے دل میں ہمدردی کے انداز میں وَسوَسہ ڈالا کہ کھانے کے اوقات میں جوان لڑکی اپنے گھرسے نِکل کر آتی ہے کہیں کسی بدکار مرد کے ہتّھے نہ چڑھ جائے، بہتر یہ ہے کہ اپنے دروازے کے بجائے اُس کے دروازے کے باہَر کھانا رکھ دیا جائے، اس اچّھی نیّت کا کافی ثواب ملے گا۔ چُنانچِہ اُس نے اب کھانا اُس کے دروازے پر پَہُنْچانا شُروع کیا ۔ چند روز بعد شیطان نے پھر وَسْوَسے کے ذَرِیعے عابِدکا جذبۂ ہمدردی اُبھارا کہ بے چاری چُپ چاپ اکیلی پڑی رہتی ہے، آخِر اس کی وَحشت دُور کرنے کی اچّھی نیّت کے ساتھ بات چیت کرنے میں کیا گُناہ ہے! یہ تو کارِ ثواب ہے، یوں بھی تم بَہُت پرہیز گار آدمی ہو، نَفس پر حاوی ہو، نیّت بھی صاف ہے یہ تمہاری بہن کی جگہ ہے۔ چُنانچِہ بات چیت کا سِلْسِلہ شُروع ہوا ۔ جوان لڑکی کی سُریلی آواز نے عابِد کے کانوں میں رَسْ گھولنا شروع کر دیا، دِل میں ہَیجان برپا ہوا، شیطان نے مزیداکسایا یہاں تک کہ’’نہ ہونے کا ہو گیا۔‘‘ حتّٰی کہ لڑکی نے بچّہ بھی جَن دیا۔ شیطان نے دل میں وَسْوَسوں کے ذَرِیعے خوف دِلایا کہ اگر لڑکی کے بھائیوں نے بچّہ دیکھ لیا تو بڑی رُسوائی ہو گی لہٰذا عزّت پیاری ہے تو نَومَولود کا گلا کاٹ کر زمین میں گاڑ دے۔ وہ ذِہنی طور پر تیّار ہو گیا پھر فوراً وَسْوَسہ ڈالا، کہیں ایسا نہ ہو کہ لڑکی ہی اپنے بھائیوں کو بتا د ے بس عافیّت اِسی میں ہے کہ ’’نہ رہے بانس نہ بجے بانسری‘‘ دونوں ہی کو ذَبح کر ڈال۔