Brailvi Books

ہمیں کیا ہو گیا ہے
11 - 109
مِّنْہُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوۡمٌ ﴿٪۴۴﴾ دروازے ہیں ہر دروازے کے لئے ان میں سے ایک حصہ بٹا ہوا ہے۔ 
   (پ۱۴، الحجر: ۴۴)
صدرُ الافاضل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّد محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی اس آیتِ مبارکہ کے تحت ارشاد فرماتے ہیں: ’’ابنِ جُرَیْج  کا قول ہے کہ دوزخ کے سات درکات (طبقات) ہیں۔ جہنّم، لظٰی، حطمہ، سعیر، سقر، جحیم، ہاویہ۔‘‘ مزید فرماتے ہیں کہ’’(جہنّم کے سات حصوں کی طرح) شیطان کی پیروی کرنے والے بھی سات حصّوں میں مُنْقَسم ہیں، ان میں سے ہر ایک کے لئے جہنّم کا ایک درکہ (طبقہ)مُعَیّن ہے ۔‘‘ (خزائن العرفان، پ۱۴، الحجر، تحت الآیۃ ۴۴)
حضرت سیِّدُنا عطا عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْفَتَّاح (لَہَا سَبْعَۃُ اَبْوٰبٍکی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جہنّم کے ان سات دروازوں میں سے غم، گرمی اور تکلیف کے اعتبار سے سب سے زیادہ سخت اور بدبُودار دَروازہ ان لوگوں کے لیے ہو گا جو بدکاری کی حُرمت جاننے کے باوجود اس میں مبتلا ہیں۔ (الکبائر، الکبیرۃ العاشرۃ، ص ۵۷) 
پیارے اسلامی بھائیو! غیر مسلم معاشروں کی طرح اگرچہ ابھی مسلم معاشروں میں یہ وبا اس قدر نہیں پھیلی کہ سرعام نظر آئے بلکہ اس بُرے فعل کے مرتکب بدنامی کے ڈر سے رات کے اندھیروں میں چھپ کر یہ فعل