| غوثِ پاک کے حالات |
۔ لحد میں بھی کھلی ہیں اس لیے عشاق کی آنکھیں
۔ کہ ہو جائے یہیں شاید نظارہ غوث اعظم کا
صدائے صُور سن کر قبر سے اٹھتے ہی پوچھوں گا ۔
کہ بتلاؤ کدھر ہے آستانہ غوث اعظم کا ۔
۔ جمیل قادری سو جاں سے ہو قربان مرشد پر
۔ بنایا جس نے تجھ جیسے کو بندہ غوث اعظم کا
(قبالہ بخشش،صفحہ ۵۲)یاغوث رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلاؤ
ياغوث ! بلاؤ مجھے بغداد بلاؤ بغداد بلاکر مجھے جلوہ بھی دکھاؤ ۔ دنياکی محبت سے مری جان چھڑاؤ ديوانہ مجھے شاہ مدینہ کابناؤ چمکادو ستارہ مری تقدیرکامرشد ۔ مد فن کو مدینے ميں جگہ مجھ کو دلاؤ ۔ نيامری منجدھار میں سرکار! پھنسی ہے ۔ امدادکو آؤ!مری امداد کوآؤ! ياپير ميں عصياں کے سمندر ميں ہوں غَلْطاں ۔ للہ گناہوں کی تباہی سے بچاؤ ۔ ۔ اچھوں کے خريدار تو ہر جا پہ ہيں مرشد ! ۔ بدکار کہاں جائيں جو تم بھی نہ نبھاؤ