Brailvi Books

غوثِ پاک کے حالات
81 - 96
    سرکارِدوجہان،رحمتِ عالمیان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ارشادفرماتے ہیں : ''خوشبو اور عورت مجھے محبوب ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔''

(مشکوٰۃ المصابیح،کتاب الرقائق،الفصل الثالث،الحدیث۵۲۶۱،ج۲،ص۲۵۸)

    لہٰذاان نعمتوں پراللہ عزوجل کاشکراداکرناواجب ہے، اللہ عزوجل کے انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اور اولیاء عظام رحمہم اللہ تعالیٰ کونعمتِ الٰہیہ حاصل ہوتی ہے اوروہ اس کواللہ عزوجل کی حدودمیں رہ کراستعمال فرماتے ہیں،انسان کے جسم وروح کی ہدایت ورہنمائی کا مطلب یہ ہے کہ اعتدال کے ساتھ احکامِ شریعت کی تعمیل ہوتی رہے اوراس میں سیرتِ انسانی کی تکمیل جاری و ساری رہتی ہے۔(فتوح الغیب،مترجم،ص۷۲)
رضائے الٰہی عزوجل :
    حضرت سیدناشیخ عبدالقادر جیلانی قطب ربانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشادفرماتے ہيں کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی کوئی دعا قبول فرماتا ہے اور جو چیز بندے نے اللہ تعالیٰ سے طلب کی وہ اسے عطا کرتا ہے تو اس سے ارادہ خداوندی میں کوئی فرق نہیں آتا اور نہ نوشتہ تقدیرنے جو لکھ دیا ہے اس کی مخالفت لازم آتی ہے کیونکہ اس کا سوال اپنے وقت پر رب تعالیٰ کے ارادہ کے موافق ہوتا ہے اس لیے قبول ہوجاتا ہے اور روز ازل سے جو چیز اس کے مقدر میں ہے وقت آنے پر اسے مل کر رہتی ہے۔(فتوح العیوب مع قلائدالجواہر،المقالۃالثامنۃوالستون،ص۱۱۵)

    اللہ عزوجل کے محبوب ،دانائے غیوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اورجگہ ارشادفرمایا:'' اللہ عزوجل پر کسی کا کوئی حق واجب نہیں ہے، اللہ عزوجل جو چاہتا کرتا ہے، جسے چاہے اپنی رحمت سے نواز دے اور جسے چاہے عذاب میں مبتلا کر دے، عرش سے
Flag Counter