(سُنَنِ ابوداو،د ج ۴ ص ۳۸۷ حدیث ۴۹۹۳)
چُنانچِہ حُسنِ ظن قائم کیجئے کہ جواب نہ دینے میں اُس کی کوئی نہ کوئی مجبوری ہو گی نیز اِس مسئلے پر بھی نظر رکھئے کہ بِالفرض کسی نے جان بوجھ کر بھی فون وُصول نہیں کیا یاآپ کے smsیاای میل کاجواب نہیں دیاتو شرعاً اس کا گنہگار ہونا ضِروری نہیں ، ورنہ توجس جس کے پاس فون ہو گا وہ بار بار گنہگار ہوتا رہے گا ، خود آپ بھی تو ہر کسی کاہر ہر فون وُصول نہیں فرماتے ہوں گے۔ مگرافسوس!فون کا جواب نہ ملنے پر شیطان بعض لوگوں کو بَسااوقات سب کچھ بُھلا کر غصّے سے باؤلا بنا دیتا ہے، لہٰذا ٹھنڈے دماغ سے کام لیجئے،اگر آپ غصّے میں بے صبرے ہو گئے تو اِس طرح کے غیبتوں ، تہمتوں اور بدگمانیوں سے بھر پور گناہوں بھرے جملے مُنہ سے نکل سکتے ہیں:*وہ بڑا بے درد ہے* سُست آدمی ہے* پتا نہیں میرافون کیوں نہیں اُٹھاتا* مجھ پر خار کھاتاہے* اِتنی بار فون کئے مگر جان بوجھ کر وُصول (ATTEND)نہیں کئے* اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے* میں نے اس کے ساتھ فُلاں فُلاں احسانات کئے ہیں مگر یہ احسان فراموش ہے* مَطلبی شخص ہے* بے وفا ہے*وائڑا(یعنی ٹیڑھا)ہے* کسی کی مجبوری کا اس کو احساس ہی نہیں * میرا فون دانستہ مصروف(Busy)کر دیتا ہے(حالانکہ نظام(System)کی مصروفیت یا خرابی کی بنا ء پر بھی ایسا ہو سکتاہے) *(صبح کے وقت فون وصول نہ ہونے پر)ابھی تک نہیں اُٹھا، آخِر کتنا سوئے گا۔ وغیرہ۔
فون وصول کر کے ثواب کمایئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بے شک ہر کسی کا فون وُصول کرنا واجب نہ سہی، مگرمسلمان کی دلجوئی اور اُسے غیبتوں ، تہمتوں اور بد گمانیوں وغیرہ گناہوں سے بچانے کی اچّھی اچّھی نیتوں کے ساتھ ہاتھوں ہاتھ فون وُصول کر لیجئے اور SMS کا جواب دے دیجئے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فون کرنے والے کو کوئی ایمرجنسی درپیش ہو ،آپ اگر سخت مجبوری کی وجہ سے اُس وَقت فون وُصول نہ کرسکے تو بعد میں خود اُسے فون کرلیجئے اور اس کا دل خوش کر کے ثوابِ آخرت کے حقدار بنئے ۔مسلمان کا دل خوش کرنے کے ثواب کی