(یعنی میں حاضر ہوں)کہتے ہوئے اُن کے ساتھ مسجد کی طرف چل دیا ، غالباً ہوش سنبھالنے کے بعد زندگی میں پہلی بار میں مسجد کے اندر داخِل ہوا ۔ عاشقانِ رسول کی صُحبت اور مسجِد میں ہونے والے سنّتوں بھرے بیان نے میرے دل کی کیفیّت کو بدل کر رکھ دیا۔میں نے اسلامی بھائیوں کے پاس آنا جانا شروع کر دیااور پھرسرکارِ غوثِ اعظم علیہ رَحمَۃُ اللہِ الاکرمکے سلسلے میں مرید بن گیا۔ مرید تو کیا ہوا میرے انداز بدلتے چلے گئے۔میں نے سب گناہوں سے توبہ کر لی، شراب پینا چھوڑ دی، نَمازی بن گیا اور چہرہ سنَّت کے مطابِق داڑھی اور سر عمامہ شریف سے ''سر سبز''ہو گیا۔ لوگ میری اس تبدیلی پر حیران تھے۔بعضوں کو تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس قدر بگڑا ہوا انسان بھلا کیسے سدھر سکتا ہے!ایک روز عجیب چُٹکُلہ ہوا کہ دواخباری نمائندے میرے قریب سے گزرے تو ایک نے میری طرف اشارہ کرکے دوسرے کو بتایا یہ وُہی شخص ہے ، میرا تبدیل شدہ حُلیہ دیکھ کر دوسرے کو یقین نہ آیا اور اُس نے مجھ سے باقاعِدہ تصدیق کی کہ کیا آپ واقِعی''وہی''ہیں؟ میرے ہاں کرنے پر وہ دم بخود رہ گیا اور کہنے لگا کہ اپنی تبدیلی کا راز بتائيے ہم اخبار میں آپ کی خبر چھاپیں گے۔ مگر میں نے منع کردیا ۔یہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکتیں ہیں کہ مجھ جیسا رُسوائے زمانہ انسان بھی صلٰوۃ وسنّت کی راہ پر چلنے لگا اورمُعاشرے کا ایک باعزت فرد بن گیا ۔