صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمتِ بابَرَکت میں آنے سے حیاء محسوس کرتی ہیں ، اُنہیں اجازت دیجئے تاکہ وہ بھی روزہ کھول لیں ۔ اللہ کے مَحبوب ،دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اُن سے رُخِ انور پھیرلیا،اُنہوں نے پھرعَرض کی، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پھر چِہرئہ انور پَھیرلیا۔ اُنہوں نے پھریہی بات دُہرا ئی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پھر چِہرئہ انور پَھیرلیا وہ پھر یہی با ت دُہرانے لگے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پھر رُخِ انورپھیرلیا، پھر غیب دان رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے(غَیب کی خبر دیتے ہوئے)ارشاد فرمایا:''اُن دونوں نے روزہ نہیں رکھا وہ کیسی روزہ دار ہیں وہ تَو سارا دن لوگوں کا گوشت کھاتی رہیں!جاؤ ،ان دونوں کو حُکْم دو کہ وہ اگر روزہ دار ہیں تَو قَے کردیں۔ ''وہ صَحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُن کے پاس تشریف لائے اور انہیں فرمانِ شاہی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سُنایا۔اِن دونوں نے قَے کی ، تَو قَے سے جما ہوا خُون نِکلا ۔ اُن صَحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خِدمتِ بابَرَکت میں واپَس حاضِر ہو کر صُورتِ حال عَرض کی ۔ مَدَنی آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:اُس ذات کی قَسم !جس کے قَبضہ قُدرت میں میری جان ہے،اگر یہ اُن کے پیٹوں میں باقی رہتا ، تَو اُن دونوں کوآگ کھاتی۔(کیوں کہ انہوں نے غِیبت کی تھی)