مسلمان کہاں داڑھی رکھتے ہیں!''یہ سُن کر کُفر کی تاریکیوں میں گِھرے ہوئے گھر والوں کادِل ایکدم کُھل گیا اورانہوں نے سوتے میں بلیڈ سے میری داڑھی مُونڈنا شروع کر دی۔میری آنکھ کُھل گئی ،داڑھی بچانے کی جدوجہد میں میرا چِہرہ لَہولُہان ہو گیا ،میں رورو کر انہیں اس کام سے باز رہنے کی التجائیں کرتا رہا مگر انہوں نے میری ایک نہ سُنی اور داڑھی مُونڈ کر ہی دم لیا ۔ چہرے سے بہنے والا لہو میرے آنسوؤں میں شامل ہوگیا ۔اُنہوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ مجھے ایک کمرے میں قید کردیا ،تن کے کپڑوں کے علاوہ میرے پاس اور کچھ نہ تھا ، میری نگرانی کی جاتی مگر میں کسی نہ کسی طرح چُھپ کر نَمازیں ادا کرلیتا۔ نیند کی قربانی دے کر بھی اپناوُضُو قائم رکھتا تاکہ موقع ملنے پرنَماز ادا کر سکوں۔میرا کوئی پُرسانِ حال نہ تھا نہ ہی کوئی ہمدرد تھاکہ ہمدردی کے دو میٹھے بول سنا کر میری ڈھارس بندھاتا۔ تقریباً 2ماہ اسی طرح گزر گئے یہاں تک کہ رَمَضانُ الْمبارَک کا مقدس مہینہ تشریف لے آیا ۔آہ!مجھے کون سحری فراہم کرتا! رَمَضانُ الْمبارَک کا روزہ چھوڑنا مجھے گوارا نہ تھاچُنانچِہ میں نے بِغیر سَحری ہی روزہ رکھ لیا۔شام تک جب میں نے کھانا نہیں کھایا تو گھر والوں کو تشویش ہوئی ۔وہ جمع ہوکر آئے اور کھانا کھانے کیلئے زور دینے لگے ۔ میں نے کہا :''رکھ دو میں کھالوں گا ۔''ان کے جانے کے بعدمیں نے مزید اصرار سے بچنے کے لئے سالن اِدھر اُدھر کر دیا اور روٹیاں جیب میں ڈال لیں مگر گھر والوں کو کسی طرح شک ہو گیا اور اُنہوں نے دن کے وقت زبر دستی مجھے کھا نا کھلا یا، میں دل ہی دل میں کڑھتا رہا مگر مجبور تھا، یوں میں پانچ روزے نہ رکھ سکا ۔
آخِرِ کار کسی سبب سے گھر والوں کی طرف سے کچھ ڈھیل ملی اورمیں دوبارہ اَسپتال جانے لگا ۔میں بِغیر سحری روزے کی نیّت کر لیتا اور بظاہِر دوپہر کا کھانا ساتھ لے جاتا مگر شام کے وَقت اُس سے افطاری کرتا۔اِسی دوران میں نے اسلام قبول کرنے کے مُتَعَلِّق قانونی کاغذات بھی مکمَّل کروا لئے مگر گھر والوں کو پتا نہیں چلنے دیا۔میں گھر والوں سے چُھپ کر جس مسجِدمیں نَماز ادا کرنے جاتا تھاوہاں کی انتظامیہ نے خوفزدہ ہوکر مجھے منع کر دیا کہ آپ یہاں نہ آیا کریں،کہیں فساد نہ ہو