Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
286 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر سو مرتبہ دُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔
نہیں کی جاسکتی۔ وہ وقت میری سعادتوں کی معراج کا تھا ، اُن کے الفاظ نے میری زندگی کا رُخ تبدیل کردیا ، میں نے کچھ دے ر سوچا اور پھر ''کلِمہ طیِّبہ''پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخِل ہوگیا۔کفر کے اندھیرے چھٹ گئے اور میرا دل نورِ اسلام سے جگمگانے لگا ۔
    میں تبلیغ قراٰن و سنِّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں پابندی سے شرکت کرنے لگا اورحضور غوثِ اعظم علیہ رَحمَۃُ اللہِ الاکرم کا مُرید ہو کرسلسلہ عالیہ قادِریہ رَضَویہ میں داخِل ہو گیااور باجماعت نَمازیں پڑھنے لگا، مگر کبھی کبھی شیطان مذہبِ اسلام کے بارے میں وسوسے ڈالتا تھا ۔ ایک روزدعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ ''بڈّھاپُجاری '' پڑھا تو
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
تمام وسوسوں کی جڑ کٹ گئی ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
18جولائی  2005؁ کوعاشقانِ رسول کے ہمراہ مَدَنی قافلے میں سنّتوں بھرے سفرکی سعادت ملی۔اس سے پہلے میں ذرا ذرا سی بات پرگھر والوں سے ناراض ہو جاتا ، کھانا مزاج کے خلاف ملتا تو خوب شور مچاتا تھا ، مَدَنی قافِلے میں سفر کی بَرَکت سے یہ عادت بھی نکل گئی۔گھر والے میری اِس تبدیلی پر حیران تھے اور مذہبِ اسلام سے مُتأَثِّر ہورہے تھے۔میں داڑھی شریف کی سنّت اپنانے کے ساتھ ساتھ سر پر سبز عمامہ بھی باندھنے لگا مگر گھرجا تے وقت اُتارلیتا۔

    چند دنوں بعد بعض لوگوں نے میرے خلاف گھر والوں کامنفی ذہن بنایا جس پر گھر میں سختی شروع ہو گئی ،اب مجھے بات بات پر ٹوکا جاتا بلکہ مارنے سے بھی دریغ نہ کیا جاتا ۔میں نے تنگ آکر گھر چھوڑ دیامگر کچھ ہی روزبعد بھائی وغیرہ نے بہانے سے بلوایا اورزبردستی نائی (حجام)کے پاس پکڑ کرلے گئے۔جب میں نے اُس نائی کوبتایا کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں تو وہ ڈر گیا اوراُس نے داڑھی مونڈنے سے انکار کردیا ۔میرے گھر والے بھی داڑھی کاٹنے سے ڈر رہے تھے مگر افسوس کہ علمِ دین سے بے بہرہ ایک مسلمان نے گھر والوں سے کہا :''داڑھی رکھنا ضَروری نہیں ہے ، ہمیں دیکھو! لاکھوں
Flag Counter