(یعنی اسراف میں کوئی بھلائی نہیں اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے میں کوئی اسراف نہیں۔ ت)جس شے سے تعظیمِ ذکر شریف مقصود ہو ، ہر گز ممنوع نہیں ہوسکتی ۔
اِمام غزالی (علیہ رحمۃ اللہ الوالی)نے اِحیاء ُ العلوم شریف میں سید ابوعلی رُوذ بارِی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے نَقل کیا کہ ایک بندہ صالح نے مجلسِ ذکر شریف ترتیب دی اور اس میں ایک ہزار شمعیں روشن کیں۔ ایک شخص ظاہربین پہنچے اور یہ کیفیت دیکھ کر واپس جانے لگے ۔بانئ مجلس نے ہاتھ پکڑا اور اندر لے جاکر فرمایا کہ جو شمع مَیں نے غیرِ خدا کے لئے روشن کی ہو وہ بجھا دیجئے ۔ کوششیں کی جاتی تھیں اور کوئی شمع ٹھنڈی نہ ہوتی ۔
( اِحیاءُ الْعُلوم ج۲ص۲۶مُلَخَّصاً)
لہراؤ سبز پرچم اے آقا کے عاشقو!
گھر گھر کرو چراغاں کہ سرکار آگئے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تُوبُوا اِلَی اللہ ! اَسْتَغْفِرُاللہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(1)ایك قسم كاشمع دان جس پر پنجرے كی شكل كا بارییك كپڑا یاكاغذ چڑھا ہوتاہے جو گھمانے یاہواكے زور پرگردش كرتاہے۔
(2)یہ فرش كی جمع ہے۔ یعنی چونے وغیرہ سے زمین كی سطح ہموار كرنا۔