Brailvi Books

گھریلوعلاج
2 - 11
کوئی مرض لاعلاج نہیں
    اِس حدیثِ پاک سے ڈاکٹروں کے اس قول کی بھی تردید ہو گئی کہ کینسر یا فُلاں بیماری لا علاج ہے۔ یقینابڑھاپے اور موت کے سوا کوئی ایسی بیماری ہی نہیں جس کی دواء نہ ہو ۔ہاں یہ بات الگ ہے کہ کئی اَمراض کا علاج اَطِبّاء اب تک دریافت نہیں کر پائے۔ بَہَر حال ربِّ ذُوالجلالجَلَّ جَلا لُہٗ چاہے تو دواء شِفا کا ذَرِیعہ (ذَ۔ری۔عَہ)بنے ورنہ عین ممکِن ہے کہ وُہی دواء موت کا سبب بن جائے ! اور یہ بھی اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ماہرِ ڈاکٹر کی طرف سے ملنے والی دُرُست دواء کے باوُجُود کسی کسی مریض کو مَنفی اثر (REACTION) ہو جاتا اور وہ مزید شدید بیمار ، معذوریا فوت ہو جاتا اورپھر بعض لوگوں کی جَہالت کے باعِث بے چارے ڈاکٹر کی شامت آجاتی ہے ۔
شِفا ملنے نہ ملنے کا راز
    مفسّرِ قراٰن، حکیمُ الاْمَّت، حضرتِ مفتی احمدیار خان علیہ رحمۃ المنّان مذکورہ حدیثِ پاک کے تحت مِراٰۃ شرحِ مشکوٰۃ جلد6 صَفْحَہ 2۱4 پر صاحِبِ مِرقاۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حوالے سے نَقْل فرماتے ہیں :''جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی بیمار کی شِفانہیں چاہتا تو دواء اور مَرَض کے درمیان ایک فِرشتے کے ذَرِیْعے آڑ کر دیتا ہے جس کی وجہ سے دواء مَرَض پر واقِع نہیں ہوتی، جب شِفا کا ارادہ ہوتا ہے تو وہ پردہ ہٹا دیا جاتا ہے جس سے دواء مرض پر واقِع ہوتی ہے اور شِفاء ہو جاتی ہے۔''
(مرقاۃ المفاتیح، ج8ص289تحتَ الحدیث4515دار الفکر بیروت)
Flag Counter