فلمیں دیکھنے دوسرے شہروں مَثَلاً لاہور، اوکاڑہ وغیرہ حتیّٰ کہ کراچی تک پَہنچ جاتا۔ فلموں کے SEX APEALمناظِر کی نُحُوست کے باعِث مَعاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ بے پردہ لڑکیوں کا کالج تک پیچھا کرنا اور روزانہ داڑھی مُنڈانا میری عادت تھی۔ نُحُوست بالائے نُحُوست یہ کہ مجھ پر تِھئیٹَر، سرکس اور موت کے کُنویں میں کام کرنے کا بھوت سُوار ہوگیا۔ گھر والے اِنتِہائی پریشان تھے۔
ایک دن والِد صاحِب نے دعوتِ اسلامی کے ذمہ داران سے بات کرکے عَلاقے کے عاشِقانِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ہمراہ مَدَنی قافِلے میں سفر پر بھیج دیا۔ آخِری دن امیرِ قافِلہ نے مجھيامیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا منفردرِسالہ ''کالے بچّھو'' (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) پڑھنے کو دیا،میں نے پڑھا تو کانپ اُٹھا۔ فوراً گناہوں سے توبہ کی اور چہرے پر ایک مُٹّھی داڑھی سجانے کی نیّت کرلی۔ واپَسی پر دعوتِ اسلامی کے ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی اور مکتبۃُ المدینہ کی جانِب سے جاری ہونے والے امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیان کی کیسٹ جس کا نام ''ڈھل جائے گی یہ جوانی'' تھا، خریدی ۔
جب گھر آکر بیان سُنا تو اُس نے میرے دل کی دُنیا ہی بدل کر رکھ دی! اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میں پابندی سے نَمازیں پڑھنے لگا اور دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام شروع کردیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اِس وقت(یہ بیان دیتے وقت) میں اپنے شہر میں مَدَنی قافِلہ ذمّہ دار کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کر رہا ہوں۔