فضول گوئی کی جگہ زبان سے درود ِ پاک جاری ہوجائے گا ، یہ تلاوت قرآن ،حمد ِ الٰہی اور نعتِ رسول اکی عادی بن جائے گی ، دنیا کی محبت سے ڈوبا ہوا دل آخرت کی بہتری کے لئے بے چین ہوجائے گا ،اغیار کی وضع قطع پر اِترانے والا جسم اپنے پیارے آقا اکی سنتوں کا آئینہ دار بن جائے گا ، غیروں کے طریقوں کو چھوڑ کر اسلاف ِ کرام رحمھم اللہ کے نقش ِ قدم پر چلنے کی تڑپ نصیب ہوگی ،یورپی ممالک کی رنگینیوں کو دیکھنے کی خواہش دم توڑ دے گی اور مکۃ المکرمہ ومدینۃ المنورہ کے مقدس سفر کی دیوانگی نصیب ہوگی ،وقت کی دولت کو محض دنیا کمانے کے لئے صرف کرنے کی بجائے اپنی آخرت کی بہتری کے لئے خدمتِ دین میں صرف کرنے کا شعور نصیب ہوگا ۔ ان شاء اللہ عزوجل