Brailvi Books

فضائلِ دعا
41 - 322
فرمائی بلکہ وہ مرض ہی خود نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ایک آبخورہ میں دوا عطا فرمانے سے کہ
 ((من رآني فقد رآی الحق))(1)
حدِّ منع پرنہ رہا، وہاں حضرت أجل العلماء، أکمل الفضلاء، حضرت مولانا سید احمد زینی دحلان شیخ الحرم وغیرہ علمائے مکہ معظمہ سے مکرر سندِ حدیث حاصل فرمائی ۔

    سلخ ذی القعدہ روز پنجشنبہ وقتِ ظہر  ۱۲۹۷؁ ہجریہ قدسیہ کو اکاون ۵۱ برس پانچ مہینے کی عمر میں بعارضہ اِسہال دَموی (یعنی خونی دست)شہادت پاکر شبِ جمعہ اپنے والدِ ماجد قُدِّسَ سِرُّہ، کے کنار میں جگہ پائی
 (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ)
روزِ وصال نمازِ صبح پڑھ لی تھی اور ہَنُوز وقتِ ظہر باقی تھاکہ انتقال فرمایا نزع میں سب حاضرین نے دیکھا کہ آنکھیں بند کیے متواتر سلام فرماتے تھے جب چند انفاس باقی رہے ہاتھوں کو اعضائے وضو پر یوں پھیرا گویا وضو فرماتے ہیں یہاں تک کہ استنشاق بھی فرمایاسبحان اللہ!وہ اپنے طور پر حالتِ بیہوشی میں نمازِ ظہربھی ادا فرماگئے جس وقت روح پر فتوح نے جدائی فرمائی فقیر سرہانے حاضر تھا واللہ العظیم ایک نور ملیح علانیہ نظر آیا کہ سینہ سے اٹھ کر برقِ تابندہ کی طرح چہرہ پر چمکا اور جس طرح لمعانِ خورشید آئینہ میں جنبش کرتاہے یہ حالت ہوکر غائب ہوگیا اس کے ساتھ ہی روح بدن میں نہ تھی ، پچھلا کلمہ زبانِ فیضِ ترجمان سے نکلا لفظِ''اللہ'' تھا وبس اور اخیر تحریر کہ دستِ مبارک سے ہوئی
''بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ''
تھی کہ انتقال سے دوروز پہلے ایک کاغذ پر لکھی تھی بعدہ فقیر نے حضور پیرو مرشدِ برحق رضی اللہ عنہ کو رُؤیا میں دیکھا کہ حضرت والد
قُدِّسَ سِرُّہُ الْمَاجِدُ
کے مرقد پر تشریف لائے ، غلام نے عرض کی:حضور
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''صحیح البخاري''، کتاب التعبیر، باب من رأی النبي صلی اللہ علیہ وسلم في المنام، الحدیث: ۶۹۹۴، ج۴، ص۴۰۷.
Flag Counter