حضرت سیدناسید شاہ آل رسول احمدی تاجدار مسندِ مارَہرَہ
رَضِيَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وَأَرْضَاہُ وَأَفَاضَ عَلَیْنَا مِنْ بَرَکَاتِہِ وَنُعْمَاہُ
پر شرفِ بیعت حاصل فرمایا حضور پیر ومرشد برحق نے مثال خلافت واجازتِ جمیع سلاسل وسندِ حدیث عطا فرمائی یہ غلام ناکارہ بھی اسی جلسہ میں اس جناب کے طفیل اِن برکات سے شرف یاب ہوا ۔
چھبیس شوال ۱۲۹۵ہجری کوباوجود شدتِ علالت وقوتِ ضعف خود حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خاص طور پر بلانے سے کہ
((من رآني في المنام فقد رآني)) ۱؎
عزمِ زیارت وحج مصمم فرمایا یہ غلام اور چند اصحاب وخدام ہمراہِ رِکاب تھے ہر چند احباب نے عرض کی کہ علالت کی یہ حالت ہے آئندہ سال پر ملتوی فرمائیے، ارشاد کیا:مدینہ طیبہ کے قصد سے قدم دروازہ سے باہر رکھ لوں پھر چاہے روح اسی وقت پرواز کرجائے دیکھنے والے جانتے ہیں کہ تمام مَشاہد میں تندرستوں سے کسی بات میں کمی نہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎۱ رواہ البخاري والترمذي عن أنس رضي اللہ تعالی عنہ ۔۱۲
''صحیح البخاري''، کتاب التعبیر، باب من رأی النبي صلی اللہ علیہ وسلم في المنام، الحدیث: ۶۹۹۴، ج۴، ص۴۰۷.
و''سنن الترمذي''، کتاب الرؤیا، باب في قول النبي: ((من رآني... إلخ))، الحدیث: ۲۲۸۳، ج۴، ص۱۲۲.