تیسری حدیث شریف میں ہے: ''مسلمان کی لعنت مثل اس کے قتل کے ہے۔''(1)
چوتھی حدیث میں ہے: ''جب بندہ کسی پر لعنت کرتاہے ، وہ لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے اس کے دروازے بند ہوجاتے ہیں کہ یہاں تیری جگہ نہیں، پھر زمین کی طرف اترتی ہے اس کے دروازے بھی بند ہوجاتے ہیں کہ یہاں تیری جگہ نہیں، پھر دائیں بائیں پھرتی ہے جب کہیں ٹھکانا نہیں پاتی اگرجس پر لعنت کی، لعنت کے لائق ہے تو اس پر جاتی ہے ورنہ کہنے والے کی طرف پلٹ آتی ہے۔''(2)
اور فرماتے ہیں: اے عورتو! صدقہ دو کہ میں نے تمہیں دوزخ میں بکثرت دیکھا یعنی عورتیں دوزخ میں بہت پائیں۔ عرض کی: کس سبب سے؟ فرمایا: تم لعنت بہت کرتی ہو۔(3)
امام غزالی ''کیمیائے سعادت'' میں نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وقت ۱۰۰ سو بار شراب پی، ایک صحابی نے اس پر لعنت کی اور کہا: کب تک اس کا فساد باقی رہے گا!؟ حضور نے فرمایا: ''شیطان اس کا دشمن موجود ہے وہ کفایت کرتا ہے، تو لعنت کر کے شیطان کا یار نہ ہو۔''(4)