نے تیری طرف توجہ فرمائی۔(1)
بشارت (۱۷): پانچ بار ''یَا رَبَّنَا''کہنے کا فضل امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گزرا۔(2)
بشارت (۱۸): یہی خاصیت اَسمائے حُسنیٰ کی ہے۔
بشارت (۱۹): نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک شخص کو
''یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ''
(اے عظمت وبزرگی والے!)کہتے سنا، فرمایا: مانگ کہ تیری دعا قبول ہوئی۔(3)
بشارت (۲۰): ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما کی حدیث میں ہے: حضور سَیِّدُ الْمُرْسَلِین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
جبرائیل میرے پاس کچھ دعائیں لائے اور عرض کی: جب حضور کو کوئی حاجت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
= ''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۸۴۹، ج۱۹، ص۳۶۱.
و ''المعجم الأوسط'' للطبراني، من اسمہ مطلب، الحدیث: ۸۶۳۴، ج۶، ص۲۳۸.
و''مجمع الزوائد''، کتاب الأدعیۃ، باب فیما یستفتح بہ الدعاء۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۱۷۲۶۴، ج۱۰، ص۲۴۱.
1''المستدرک''، کتاب الدعاء والتکبیر... إلخ، باب إن للہ ملکاً... إلخ، الحدیث: ۲۰۴۰، ج۲، ص۲۳۹۔
2جیسا کہ فصل دوم میں ادب نمبر ۲۱ کے تحت گزرا۔
3''سنن الترمذي''، کتاب الدعوات، باب ماجاء في عقد التسبیح بالید، الحدیث: ۳۵۳۸، ج۵، ص۳۱۲.