سے حاضِر ہونا چاہئے، پیچھے سے آنے کی صورت میں انہیں مُڑ کر دیکھنے کی زَحمت ہوتی ہے۔ لہٰذا بُزُرگانِ دیں کے مزارات پر بھی پائِنْتی (یعنی قدموں ) کی طرف سے حاضِر ہو کر پھرقبلے کو پیٹھ اور صاحِبِ مزار کے چِہرے کی طرف رُخ کر کے کم از کم چار ہاتھ (یعنی تقریباًدو گز) دُور کھڑاہواور اِس طرح سلام عَرض کرے :
اَلسَّلَامُ عَلَیکَ یا سَیِّدِیْ وَرَحْمۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ
ایک بارسُوْرَۃُ الْفَاتِحَہ اور11بارسُوْرَۃُ الْاِخْلَاص(اوَّل آخِر ایک یا تین بار دُرُود شریف ) پڑھ کر ہاتھ اُٹھا کر اوپر دیئے ہوئے طریقے کے مطابِق (صاحِبِ مزار کا نام لے کر بھی) ایصالِ ثواب کرے اور دُعا مانگے۔ ’’ اَحسَنُ الوِِعاء‘‘ میں ہے : ولی کے مزار کے پاس دُعا قَبول ہوتی ہے۔
(ماخوذ از احسن الوعاء ص۱۴۰)
الٰہی واسِطہ کل اولیا کا مِرا ہر ایک پورا مُدَّعا ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ایک چُپ سو۱۰۰ سُکھ
طالبِ غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و
بے حساب جنّت الفردوس میں آقا کا پڑوس
۲۸ربیع الآخر۱۴۳۴ھ
2013-03-11