Brailvi Books

فاتِحہ اور ایصالِ ثواب کا طریقہ
18 - 26
اس کو دس نیکیاں ملیں اب اس نے دس مُردوں کو ایصالِ ثواب کیا تو ہر ایک کودس دس نیکیاں پہنچیں گی جبکہ ایصالِ ثواب کرنے والے کو ایک سو دس اور اگر ایک ہزار کو ایصالِ ثواب کیا تو اس کو دس ہزار دس۔  وَ عَلٰی ھٰذَا الْقِیاس۔(اور اسی قیاس پر)          (بہارشریعت ج۱حصہ۴ ص۸۵۰)
{19}ایصالِ ثواب صِرْف مسلمان کو کرسکتے ہیں ۔ کافر یا مُر تَد کو ایصالِ ثواب کرنا یا اُس کو’’ مرحوم،‘‘ جنَّتی ، خُلد آشیاں ،بِیکنٹھ باسی، سَوَرگ باسی کہنا کُفر ہے۔
اِیصالِ ثواب کا طریقہ
	ایصالِ ثواب ( یعنی ثواب پہنچانے) کیلئے دل میں نیّت کرلینا کافی ہے، مَثَلاًآپ نے کسی کو ایک روپیہ خیرات دیا یا ایک بار دُرُود شریف پڑھا یا کسی کو ایک سنَّت بتائی یاکسی پر انفِرادی کوشِش کرتے ہوئے نیکی کی دعوت دی یا سنّتوں بھرا بیان کیا۔ اَلغَرَض کوئی بھی نیک کام کیا آپ دل ہی دل میں اِس طرح نیّت کرلیجئے مَثَلاً: ’’ابھی میں نے جو سنّت بتائی اِس کا ثواب سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو پہنچے۔‘‘ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّثواب پہنچ جائے گا۔ مزید جن جن کی نیّت کریں گے اُن کو بھی پہنچے گا۔ دل میں نیّت ہونے کے ساتھ ساتھ زَبان سے کہہ لینا بھی اچّھا ہے کہ یہ صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ثابت ہے جیسا کہ حدیثِ سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں گزرا کہ اُنہوں نے کُنواں کُھدواکر فرمایا:ھٰذہ لِاُمِّ سَعدیعنی ’’یہ امِّ سعد کیلئے ہے۔‘‘