(الفتاویٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ ، فصل فی مال التجارۃ،الباب الاول ،ص۱۷۰)
زکوٰۃ یک مشت دیں یاتھوڑی تھوڑی؟
اگر زکوٰۃسال مکمل ہونے سے قبل پیشگی ادا کرنی ہو تو چاہے تھوڑی تھوڑی کر کے ديں یا ایک ساتھ دونوں طرح سے دُرُست ہے ۔اور اگر سال گزرنے پر زکوٰۃ فرض ہوچکی ہو تو فوراً ادا کرنا واجب ہے تاخیر پر گنہگار ہوگا ،لہٰذا اب یک مشت دینا ضروری ہے ۔(ماخوذفتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ،ج۱۰، ص۷۵)
سال مکمل ہوجانے کے بعد ایک ساتھ زکوٰۃ دے دیجئے کیونکہ بتدریج یعنی تھوڑی تھوڑی کر کے دینے میں گناہ لازم آنے کے علاوہ دیگر آفتیں بھی ممکن ہیں ۔ مثلاً ہوسکتا ہے کہ ایسا شخص زکوٰۃ نہ دینے کا وبال اپنی گردن پر لئے دنیا سے رُخصت ہوجائے یا پھر اس کے پاس زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے مال ہی نہ رہے اور یہ بھی ممکن