Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
74 - 149
زکوٰۃ کی ادائیگی

زکوٰۃ کی ادا ئیگی کی شرائط
    زکوٰۃ کی ادائیگی درست ہونے کی 2 شرائط ہیں (۱)نیت اور(۲) مستحق زکوٰۃ کو اس کا مالک بنادینا ۔الاشباہ والنظائر میں ہے:'' زکوٰۃ کی ادائیگی نیت کے بغیر درست نہیں ہے ۔''
 (الاشباہ والنظائر ، القاعدۃ الاولٰی،ما تکون النیۃ الیٰ آخرہ،ص۱۹ )
نیّت کے یہ معنی ہیں کہ اگر پوچھا جائے تو بلا تامُّل بتا سکے کہ زکوٰۃ ہے۔
زکوٰۃ دیتے وقت نیت کرنا بھول گیا تو؟
    اگر زکوٰۃ میں وہ مال دیا جو پہلے ہی سے زکوٰۃ کی نیت سے الگ کر رکھا تھا تو زکوٰۃ ادا ہوگئی اگرچہ دیتے وقت زکوٰۃ کا خیال نہ آیا ہو اور اگر ایسا نہیں ہے تو جب تک محتاج کے پاس موجود ہے دینے والا نیتِ زکوٰۃ کر سکتا ہے ،اور اگر اس کے پاس بھی نہیں ہے تو اب نیت نہیں کرسکتا ،دیا گیا مال صدقہ نفل ہوگا ۔ درمختار میں ہے :''ادائیگیئ زکوٰۃ کے صحیح ہونے کے لئے وقتِ ادا نیت کا مُتَّصِل (یعنی ملا ہوا )ہونا ضروری ہے ،خواہ یہ اِتِّصال(یعنی متصل ہونا) حکمی ہو مثلاً کسی نے بلانیت زکوٰۃ ادا کر دی اور ابھی مال فقیر کے قبضہ میں ہو تو نیت کرلی یا کل یا بعض مال برائے زکوٰۃ جدا کرتے وقت نیت کر لی ، ''

(الدرالمختار ، کتاب الزکوٰۃ،ج۳،ص۲۲۲،۲۲۴)
زکوٰۃ کے الفاظ
    زکوٰۃادا کرتے وقت زکوٰۃ کے الفاظ بولنا ضروری نہیں فقط دل میں نیت
Flag Counter