Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
132 - 149
ٹھیکے کی زمینوں کاعشر
سوال:کیاٹھیکے پر دی جانے والی زمین کی پیداوار پر بھی عشر ہو گا ؟

جواب:جی ہاں،ٹھیکے پر دی جانے والی زمین کی پیداوار پر بھی عشر ہو گا ۔

سوال:یہ عُشر کون ادا کریگا ؟

جواب:اس عشر کی ادائیگی کاشتکار پر واجب ہو گی۔
(رد المحتار ،کتاب الزکوۃ،باب العشر،ج۳،ص۳۱۴)
اگر خود فصل نہ بوئی توعشرکس پر ہے؟
سوال:اگر زمین کا مالک خود کھیتی باڑی میں حصہ نہ لے بلکہ مزا رعوں سے کام لے تو عشر مزارع پر ہو گا یامالک ِزمین پر ؟ 

جواب:اس سلسلے میں دیکھا جائے گا کہ 

    اگرمزارع سے مراد وہ ہے جو زمین بٹائی پر لیتا ہے یعنی پیداوار میں سے آدھا یا تیسرا حصہ وغیر ہ مالک ِزمین کا اور بقیہ مزارع کاہو تو اس صور ت میں دونوں پر ان کے حصہ کے مطابق عشرواجب ہو گا۔ صدر الشریعۃ،بدر الطریقہ، مولانا امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہارشریعت میں فرماتے ہیں، ''عشری زمین بٹائی پر دی تو عشر دونوں پر ہے ''
(بہارِ شریعت، ج۱،حصہ۵،ص۹۲۱)
    اوراگر مزارع سے مرادوہ ہے کہ جس کو مالک ِزمین نے زمین اجارہ پر دی مثلاَ فی ایکڑ پچاس ہزار روپیہ تو اس صور ت میں عشر مزارع پر ہوگامالکِ زمین پر نہیں۔
(ماخوذ از بدائع الصنائع، ج۲ ،ص۸۴)
Flag Counter