| فیضانِ زکاۃ |
صاع ۔ان چار چیزوں( یعنی گیہوں ،جو ، کھجور،منقی) کے علاوہ اگر کسی دوسری چیز سے فطرہ ادا کرنا چاہے، مثلاً چاول، جوار، باجرہ یا اور کوئی غلّہ یا اور کوئی چیز دینا چاہے تو قیمت کا لحاظ کرنا ہوگا یعنی وہ چیز آدھے صاع گیہوں یا ایک صاع جَو کی قیمت کی ہو، یہاں تک کہ روٹی دیں تو اس میں بھی قیمت کا لحاظ کیا جائے گا اگرچہ گیہوں یا جَو کی ہو۔( بہار شریعت حصہ پنجم، ص۹۳۹ ملتقطًا)
صدقۂ فطرکی مقدار
صاع کی تحقیق میں اختلاف ہونے کے سبب صدقۂ فطر کی مقدار میں علماء کرام کا اختلاف ہے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے :احتیاط یہ ہے کہ جَو کے صاع سے گیہوں دئیے جائیں،جَو کے صاع میں گیہوں تین سو اکاون ۳۵۱ روپے بھر آتے ہیں تو نصف صاع ایک سو پچھتر ۱۷۵ روپے آٹھ آنے بھر ہوا۔
(فتاوی رضويہ ، ج۱۰، ص۲۹۵)
صدقہ فطر کی مقدار آسان لفظوں میں
ایک سو پَچھتَّر روپے اَٹَھنّی بھراوپر ''(یعنی دوسیر تین چھٹانک آدھا تَولہ،یا 2کِلو اور تقریباً 50 گرام) وَزن گیہوں یا اُس کا آٹا یا اتنے گیہوں کی قیمت ایک صدقہ فطر کی مِقدار ہے۔اگرکھجور یا مُنَـقّٰی (یعنی کشمش)یا جَو یا اس کا آٹا یا ستّو یا ان کی قیمت دینا چاہیں تو '' تین سو اِکاون روپے بھر'' (یعنی 4 کلواور تقریباً 100گرام )ایک صدقہ فطر کی مقدار ہے۔
(بہارِ شریعت جلد اوّل حصہ۵ص۹۳۸)
صدقہ فطر کی ادائیگی کا وقت
بہتر یہ ہے کہ عید کی صبح صادق ہونے کے بعد اور عید گاہ جانے سے پہلے ادا کر دے۔
(الدرالمختار، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۷۶)