اسلام میں نظریۂ زکوٰۃ
( Concept of Zakat in Islam)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!منکرین زکوٰۃکے فضول اوربے جا اعتراضات پڑھ کر ہر ذی شعور فوراً سمجھ جائے گا کہ ان اعتراضات میں کوئی حقیقت نہیں، بلکہ یہ تو سراسر شیطانی وساوس ہیں جو لوگوں کو اسلام سے متنفر کرنے کا باعث ہیں۔ کیونکہ دین اسلام دنیا کا وہ واحد اورایسا پیارا دین ہے جو پیدائش سے لے کر قبر میں جانے تک ہر ہر معاملے میں لوگوں کی ایسی رہنمائی کرتاہے جو شرعی دلائل کے ساتھ ساتھ عقلی طور پر بھی مسلمہ ہوتی ہے، یعنی اگر کوئی شخص شرعی دلائل سے قطع نظر انصاف کے ساتھ فقط عقل کے ترازومیں اسلامی احکامات کو پرکھے تووہ بے ساختہ پکار اٹھے گاکہ دینِ فطرت دینِ اسلام ہی ہے۔آئیے اسلام میں زکوٰۃ کے نظریہ (Concept)پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
زکوٰۃ کا لغوی معنی
’’زکوٰۃ کے لغوی معنی پاکی کے ہیں، چونکہ زکوٰۃ نکالنے کے بعد باقی مال پاک ہو جاتاہے اس لیے اسے زکوٰۃ کہتے ہیں۔یا زکوٰۃ کے معنی بڑھنے کے ہیں کہ زکوٰۃ نکالنے سے مال بڑھتااور محفو ظ بھی رہتاہے۔‘‘
زکوٰۃ کی تعریف
’’زکوٰۃ شریعت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے مال کے ایک حصہ کا جو شرع نے مقرر کیا ہے، مسلمان فقیر کو مالک کر دینا ہے اور وہ فقیر نہ ہاشمی ہو، نہ ہاشمی کا آزاد کردہ غلام اور اپنا نفع اُس سے بالکل جدا کر لے۔‘‘ (بھارشریعت، ج۱، ص۸۷۴)
زکوٰۃ کا شرعی حکم
’’زکوٰۃ فرض ہے، اس کا منکر کافر اور نہ دینے والا فاسق اور قتل کا مستحق اور ادائیگی میں تاخیر کرنے والا گنہگار و مردود الشہادۃ ہے۔‘‘ (بھارشریعت، ج۱، ص۸۷۴)