منکرین زکوٰۃ سے جہاد
منکرین زکوٰۃ کے انکار کی وجوہات
عرب کے بعض قبائل میں یہ وبا بھی پھوٹ پڑی کہ انہوں نے زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کردیا، ان میں بھی دو(۲)گروہ تھے بعض تو وہ جوزکوٰۃ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ کی فرضیت کے بھی منکرتھے اور یقیناًً یہ لوگ فرضیت زکوٰۃ کے انکار کے سبب مرتدہوگئے، جبکہ بعض قبائل بظاہر زکوٰۃ کی فرضیت کے قائل تھے لیکن ادائیگی کے منکر تھےاور یقیناً زکوٰۃ ادا نہ کرنے والا فاسق وواجب القتل ہے۔ان دونوں گروہوں کی زکوٰۃ سے انکار کی کئی فاسد وجوہات تھیں۔مثلاًً:
(1)بعض قبائل کا یہ کہنا تھا کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زندگی تک تو زکوٰۃ ادا کرنے میں کوئی مضائقہ نہ تھا، لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات کے بعد اہل مدینہ کے مقرر کردہ امیر کا ہم سے زکوٰۃ یا تاوان طلب کرنا بالکل غلط ہے، نہ تو ہم (حضرت)ابوبکر(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)کو خلیفہ مانتے ہیں اور نہ ہی ان کے احکامات پر عمل کرنا ہمارےفرائض میں شامل ہے۔
(2)بعض لوگوں کا یہ نقطہ نظر تھا کہ زکوٰۃ کی ادائیگی نماز کی تکمیل کے لیے ہے اگر کوئی شخص نماز بالکل پوری اورصحیح پڑھتاہے تو اسے زکوٰۃ کی ادائیگی کی حاجت نہیں چونکہ ہم نمازکی کامل ادائیگی کرتے ہیں اس لیے زکوٰۃ ادانہیں کریں گے۔
(3)بعض قبائل کا یہ موقف تھا کہ جب ہماری کاشت کی ہوئی زمینوں میں سے عشر وصول کرلیا جاتاہے تو پھر ہمارے ذاتی اموال سے زکوٰۃ کا مطالبہ کیوں کیا جاتا ہے؟ دونوں میں سے ایک چیز لی جائے۔
(4) بعض لوگوں نے تواس لیے بھی زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کردیاتھا کہ ہم اپنا کمایا ہوا مال خواہ مخواہ کیوں کسی کو دیں ، کمائیں ہم اور کھائے کوئی اور۔ (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۰۱تا۲۴۵ ماخوذا)