۱۶) ترجمۂ کنزالایمان:’’ان پیچھے رہ گئے ہوئے گنواروں سے فرماؤ عنقریب تم ایک سخت لڑائی والی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے کہ ان سے لڑو یا وہ مسلمان ہو جائیں پھر اگر تم فرمان مانو گے اللہ تمہیں اچھا ثواب دے گا اور اگر پھر جاؤ گے جیسے پھر گئے تو تمہیں دردناک عذاب دے گا ۔‘‘
حضرت ابن ابی حاتم اور ابن قتیبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا فرماتے ہیں کہ ’’یہ آیت مبارکہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خلافت پر واضح حجت ہے، کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےہی انہیں لڑائی کی طرف بلایا۔‘‘
حضرت شیخ ابو الحسن الاشعری فرماتے ہیں کہ’’ میں نے ابو العباس ابن شریح کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن پاک کی اس آیت میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خلافت کاواضح اعلان ہے۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’کیونکہ اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد کوئی ایسی جنگ نہیں ہوئی جس کی طرف اوروں نے بلایا ہو سوائے حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے بلانے کے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے لوگوں کو مرتدین اور مانعین زکوٰۃ سے لڑائی کی دعوت عام دی۔ لہٰذا یہ آیت مقدسہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خلافت کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے یہ فرمایا ہے کہ جو اس سے روگردانی کرے گا اسے سخت عذاب میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ جو ’’القوم‘‘کی تفسیر یہ بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد اہل فارس اور اہل روم ہیں تب بھی اس آیت کا مصداق حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہی ٹھہرتےہیں کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان کی طرف لشکر کشی فرمائی اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے بعد اس امر کی تکمیل حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم وحضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے ہاتھ مبارک پر ہوئی۔ یہ دونوں حضرات حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی فرع ہیں۔ (تاریخ الخلفاء، ص۴۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد