امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ اپنی مشہور زمانہ تالیف ''فیضانِ سنّت'' جلد اول کے صفحہ 851 پر لکھتے ہیں:
آئیے !گناہوں کے دلدل میں دھنسے ہوئے ایک فنکار کا واقِعہ پڑھئے جسے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول نے مَدَنی رنگ چڑھا دیا۔ چُنانچِہ اورنگی ٹاؤن ( بابُ المدینہ کراچی) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے: افسوس صد کروڑ افسوس! میں ایک فنکار تھا، میوزیکل پروگرامز اور فنکشنز کرتے ہوئے زندگی کے انمول اوقات برباد ہوئے جارہے تھے، قلب ودماغ پر غفلت کے کچھ ایسے پردے پڑے ہوئے تھے کہ نہ نَماز کی توفیق تھی نہ ہی گناہوں کا احساس ۔ صحرائے مدینہ ٹُول پلازہ سُپر ہائی وے بابُ المدینہ کراچی میں بابُ الاسلام سطح پر ہونے والے تین روزہ سنّتوں بھرے اجتِماع (۱۴۲۴ھ۔ 2003 ) میں