Brailvi Books

فیضانِ چہل احادیث
89 - 118
شامل ہیں کہ انہیں بھی زیارت قبور کی اجازت دی گئی۔لیکن اب عورتوں کو زیارت قبور سے روکا جائے یعنی گھر سے زیارتِ قبور کیلئے نہ نکلیں سوائے روضۂ اطہر حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی( زیارت کے لئے) ، ہاں اگر کہیں جارہی ہوں اور راستہ میں قبر واقع ہو تو زیارت کر لیں جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے حضرت عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر کی زیارت کی،اور اگر کسی گھر میں ہی اتفاقاً قبر واقع ہو تو زیارت کر سکتی ہیں، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی قبر شریف تھی جہاں آپ مجاورہ و منتظمہ تھیں۔خیال رہے حدیث پاک میں ''
زُوْرُوْا
 (یعنی زیارت کرو) ''مطلق حکم ہے لہٰذا مسلمانوں کو زیارت قبر کیلئے سفر بھی جائز ہے۔ جب ہسپتال اور حکیموں کے پاس سفر کر کے جا سکتے ہیں تو مزاراتِ اولیاء پر بھی سفر کر کے جا سکتے ہیں کہ ان کی قبور روحانی ہسپتال ہیں، نیز اگر کہیں قبر پر لوگ ناجائز حرکتیں کرتے ہوں تو اس سے زیارت قبور نہ چھوڑے،ہو سکے تو ان حرکتوں کو بند کرے ۔ دیکھو حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ہجرت سے پہلے بتوں کی وجہ سے کعبہ نہ چھوڑا بلکہ جب موقعہ ملا تو بت نکال دیئے ۔آج بھی نکاح میں لوگ ناجائز حرکتیں کر تے ہیں مگر اس کی وجہ سے نہ نکاح بند کئے جاتے ہیں نہ وہاں کی شرکت ، نکاح بھی سنّت مطلقہ ہے اور زیارت قبور بھی سنّتِ مطلقہ،نکاح و زیارتِ قبور دونوں کے لئے سفر بھی درست ہے اور ناجائز امور کی وجہ سے ان میں شرکت ممنوع نہیں۔
 (مراٰۃ المناجیح، ج ۲،ص۵۲۲)
    صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی لکھتے ہیں کہ عورتوں کے ليے بعض علماء نے زیارتِ قبور کو جائز بتایا، درمختار میں یہی قول اختیار کیا، مگر عزیزوں کی قبور پر جائیں گی تو جزع و فزع کریں گی، لہٰذا ممنوع ہے اور صالحین کی
Flag Counter