(صحیح مسلم ،کتاب الجنائز،باب استئذان النبی ربّہ فی ...الخ، الحدیث ۱۰۶،ص۴۸۶)
شروعِ اسلام میں زیارتِ قبور مسلمان مردوں عورتوں کو منع تھی کیونکہ لوگ نئے نئے اسلام لائے تھے اندیشہ تھا کہ (سابقہ زندگی میں )بت پرستی کے عادی ہونے کی وجہ سے اب قبر پرستی شروع کر دیں ۔جب ان میں اسلام راسخ ہو گیا تو یہ ممانعت منسوخ ہو گئی، جیسے جب شراب حرام ہوئی تو شراب کے برتن استعمال کرنا بھی ممنوع ہو گیا تا کہ لوگ برتن دیکھ کر پھر شراب یاد نہ کر لیں،جب لوگ ترکِ شراب کے عادی ہو گئے تو برتنوں کے استعمال کی ممانعت منسوخ ہو گئی۔
قبروں کی زیارت کا یہ حکم استحبابی ہے ۔حق یہ ہے کہ اس حکم میں عورتیں بھی