Brailvi Books

فیضانِ چہل احادیث
76 - 118
تعالیٰ عذاب نہیں فرماتابلکہ اگر یہ دونوں (یعنی آنکھ کا آنسو اور دل کاغم)رحمت کی وجہ سے ہوں تو ان پر ثواب ملتا ہے ۔
 (مرقاۃ المفاتیح ،ج۴،ص۲۰۷)
    اوراللہ تعالیٰ کا عذاب اور اس کی رحمت زبان کے فعل پر مرتب ہوتی ہے ، اگر زبان سے بین اور نوحہ کیا (یعنی میّت کے اوصاف مبالغہ کے ساتھ بیان کرکے آواز سے روئے
 (بہارشریعت،حصہ۴،ص۲۰۳) )
اور نامناسب الفاظ کہے تو (کہنے والا)عذاب کا مستحق بنتا ہے اور اگر خداتعالیٰ کی حمد وثناکرتا ہے اور
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآاِلَیْہِ رٰجِعُوْن
پڑھتا ہے تو رحمت وثواب کا مستحق قرار پاتا ہے ۔
 (اشعۃ اللمعات،ج۱،ص۷۴۷)
    اور ''گھر والوں کے رونے کی وجہ سے میت پر عذاب ہونے''کا مطلب یہ ہے کہ جب مرنے والے نے بین اور نوحہ کرنے کی وصیت کی ہوتو میّت پر اس کا عذاب ہوتا ہے اور اگرمرنے والے نے اس قسم کی وصیت نہ کی ہو پھر اس پر کوئی بین ونوحہ کرے تو اس کا وبال نوحہ کرنے والے پر ہی ہے ،اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
وَلَاتَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی
ترجمہ کنزالایمان :اورکوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اُٹھا ئے گی۔    (پ ۲۲،سورۃ الفاطر:۱۸)
    ایک قول یہ بھی ہے کہ یہاں میت سے مراد وہ ہے جس کی جان نکل رہی ہو اور عذاب سے مراد تکلیف ہے یعنی اگر جان نکلتے وقت رونے والوں کا شور مچ جائے تو اس شور سے مرنے والے کو تکلیف ہوتی ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ واٰلہ وسلم
 (مرقاۃ المفاتیح، ج ۴،ص۲۰۸)
Flag Counter