لحد کھودنے والے صحابی حضرت زید ابن سہیل انصاری یعنی ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور صندوقی کھودنے والے حضرت عبیدہ ابن جرّاح رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ مدینہ میں دو ہی بزرگ تھے جنہیں قبر کھودنے میں مہارت تھی آج کل کی طرح ان کا پیشہ گورکنی نہ تھا۔ہر مسلمان کو کفن سینا اور قبر کھودنا سیکھنا چاہیے کہ نامعلوم موت کہاں واقع ہو ۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صندوقی قبر منع نہیں ورنہ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے صحابی یہ نہ کھودا کرتے اور صحابہ کبار رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان دو نوں کو پیغام نہ بھیجتے۔ یہ بھی خیال رہے کہ اگرچہ تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم قبر کھودنا جانتے تھے مگر وہ دونوں حضرات بہت مشّاق تھے انہوں نے چاہا کہ قبر اَنور بہت اعلیٰ درجے کی تیار ہو جو بہت تجربہ کار ہی کر سکتا ہے۔