Brailvi Books

فیضانِ چہل احادیث
70 - 118
اَلْحَدِیْثُ الثانی والْعِشْرُوْنَ	 مُردوں کا تذکرہ خیر
عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ قَالَ أُذْکُرُوْا مَحَاسِنَ مَوْتَاکُمْ وَکُفُّوْا عَنْ مَسَاویْھِمْ
حضرت ابن عمر سے(روایت ہے)بےشک اللہ کے رسول (نے) فرمایا یاد کرو (ذکرکرو) خوبیاں (اچھائیاں) اپنے مُردوں(کی) اوررُکو(بازرہو) عیوب و نقائص(بیان کرنے)سے
بامحاورہ ترجمہ: حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے، کہ اللہ کے رسول عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ اپنے مُردوں کی نیکیوں کا چرچا کرو اور ان کی بُرائیوں سے چشم پوشی کرو۔
(جامع الترمذی،کتاب الجنائز،باب آخر،الحدیث۱۰۲۱،ج۲،ص۳۱۲)
وضاحت:
    اس حدیث کا مطلب یہ ہے مسلمان کی بعدِموت اچھائیاں کبھی کبھی بیان کیا کرو کہ نیکوں کے ذکر سے رحمت اترتی ہے ۔ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو کیونکہ مردے کی غیبت زندہ کی غیبت سے سخت تر ہے کہ زندہ سے معافی مانگی جاسکتی ہے مردے سے نہیں۔اسی لیے علماء رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر غسّال مردے پر کوئی نیک علامت دیکھے خوشبو یا چہرے کا نور، تو لوگوں میں چرچا کرے، اور اگر بری علامت دیکھے بدبو یا چہرے کا بگڑ جانا تو اس کا کسی سے ذکر نہ کرے، کیونکہ ہمیں بھی
Flag Counter