(جامع الترمذی،کتاب الجنائز،باب آخر،الحدیث۱۰۲۱،ج۲،ص۳۱۲)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے مسلمان کی بعدِموت اچھائیاں کبھی کبھی بیان کیا کرو کہ نیکوں کے ذکر سے رحمت اترتی ہے ۔ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو کیونکہ مردے کی غیبت زندہ کی غیبت سے سخت تر ہے کہ زندہ سے معافی مانگی جاسکتی ہے مردے سے نہیں۔اسی لیے علماء رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر غسّال مردے پر کوئی نیک علامت دیکھے خوشبو یا چہرے کا نور، تو لوگوں میں چرچا کرے، اور اگر بری علامت دیکھے بدبو یا چہرے کا بگڑ جانا تو اس کا کسی سے ذکر نہ کرے، کیونکہ ہمیں بھی