(سنن ابی داود،کتاب الجنائز، باب فی التلقین، الحدیث۳۱۱۷،ج۳،ص۲۵۵)
کلمہ طیبہ سکھانے کا یہ حکم استحبابی ہے اوریہی جمہور علماء کا مذہب ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو مررہا ہو اسے کلمہ سکھاؤ اس طرح کہ اسکے پاس بلند آواز سے کلمہ پڑھو اسکا حکم نہ دو کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ جس کا آخری کلام لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ ہو وہ جنتی ہے۔
(المستدرک للحاکم،کتاب الدعاء...الخ،باب من کان آخر کلامہ...الخ، الحدیث۱۸۸۵،ج۲،ص۱۷۵)
خیال رہے کہ اگر مومن بوقت موت کلمہ نہ پڑھ سکے جیسے بیہوش یا شہید وغیرہ تو وہ ایمان پر ہی مرا کہ زندگی میں مومن تھا لہٰذا اب بھی مومن بلکہ اگر نزع کی غشی میں اسکے منہ سے کلمہ کفر سنا جائے تب بھی وہ مومن ہی ہو گا اسکا کفن دفن نماز سب کچھ ہوگی،کیونکہ غشی کی حالت کا اِرتداد معتبر نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مرتے وقت کلمہ پڑھانا اس حدیث مذکورہ پر عمل کے لیے ہے نہ کہ اسے مسلمان بنانے